قومی

Bareilly City Magistrate Resignation: یو جی سی ایکٹ اور شنکراچاریہ کی توہین پر بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری کا استعفیٰ، حکومت پر برہمن مخالف ہونے کا الزام

بریلی: ملک میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے امتیاز مخالف قواعد 2026 کو لے کر جاری تنازعہ کے درمیان اتر پردیش کے بریلی سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنے استعفے کی وجہ یو جی سی کے متنازعہ قواعد اور پریاگ راج میں شَنکراچاریہ کی مبینہ توہین کو قرار دیا ہے۔ اس اچانک فیصلے نے انتظامی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ملک بھر میں یو جی سی کے امتیاز مخالف قواعد 2026 کو لے کر شدید مخالفت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور مختلف طبقوں کی جانب سے ان قواعد پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر حکمران جماعت بی جے پی کے لیڈر بھی ان قواعد کے خلاف آواز بلند کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اسی ماحول کے درمیان ایک پی سی ایس افسر کا استعفیٰ اس معاملے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری نے استعفیٰ دے کر واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ حالات سے دلبرداشتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پریاگ راج میں جیوتش پیٹھادھیشور سوامی اویمکتیشورانند کے شاگردوں کے ساتھ پیش آئے واقعے، جس میں مبینہ طور پر ان کی چوٹی کھینچی گئی، نے انہیں گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔ اس واقعے کے بعد سنت سماج میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے اور اسے مذہبی جذبات کی توہین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سنہ 2019 بیچ کے پی سی ایس افسر النکار اگنی ہوتری نے اپنے طویل استعفیٰ نامے میں یو جی سی کے نئے قواعد کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ قواعد سماج کو تقسیم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج منتخب نمائندے، خواہ وہ رکن پارلیمنٹ ہوں یا رکن اسمبلی، کارپوریٹ ملازموں کی طرح کام کر رہے ہیں اور ان میں عوامی مسائل پر بولنے کی ہمت نہیں بچی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر عوامی نمائندوں میں ذرا سی بھی جرات ہے تو انہیں یو جی سی کے ان قواعد کے خلاف کھل کر سامنے آنا چاہیے۔ النکار اگنی ہوتری کے مطابق اس وقت برہمن سماج خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہا ہے اور اس کی مسلسل توہین کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے فیصلے ملک میں اندرونی خلفشار کو جنم دے سکتے ہیں اور عام طبقے کے ساتھ ناانصافی کو بڑھا سکتے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ استعفیٰ دینے والے النکار اگنی ہوتری کا تعلق اصل طور پر کانپور سے ہے۔ انہوں نے سال 2019 میں یو پی پی سی ایس کا امتحان پاس کیا تھا اور محض چھ سال کی سروس کے بعد ان کا یہ قدم کئی نئی بحثوں اور سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

G20 Voice Of Global: عالمی سطح پر ’سوراج‘: گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر کیسے ابھرا بھارت؟ جی 20 سے وائس سربراہی اجلاس تک مکمل تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…

42 minutes ago

Trade in Local Currencies: ڈالر کا دباؤ ختم اور مقامی کرنسی میں تجارت، برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی قیادت میں بنا نیا عالمی روڈمیپ

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…

1 hour ago

Women Rights International Law: نصف آبادی، مکمل شناخت: کیا خواتین کو باہر رکھ کر طالبان کو جائز حکومت مانا جا سکتا ہے؟

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…

2 hours ago

Rajbhar’s Sharp Reaction: اکھلیش یادو کے بیان پر راج بھر کا سخت ردعمل، کہا -ہمت ہے تو مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کا کریں اعلان

اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…

2 hours ago

Trump 100 Percent Tariff: امریکی 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی کے بیچ بھارت کا دوٹوک پیغام، توانائی پالیسی پر نہیں بدلے گا مؤقف

اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے…

2 hours ago