قومی

Shahnawaz Hussain taunts the DMK: کانگریس تو ڈوبتا ہوا جہاز ہے! شاہنواز حسین کا ڈی ایم کے پر طنز، کہا- ’’زیرو پر آؤٹ ہونا ہے تو راہل کا ہاتھ تھامیں‘‘

تمل ناڈو کی سیاست میں حالیہ دنوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان نشستوں کے بٹوارے کے سلسلے میں جاری کشمکش پر اب بھارتیہ جنتا پارٹی نے طنز کرنا شروع کر دیا ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان سید شاہنواز حسین نے اپوزیشن اتحاد پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے ’ڈوبتے جہاز‘ کی سواری قرار دیا ہے۔

شاہنواز حسین کا موقف

شاہنواز حسین کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بے باک انداز میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے، جہاں بھی کانگریس اتحاد کا حصہ بنی، اس نے اپنے ساتھیوں کو ہی نقصان پہنچایا ہے۔ بی جے پی ترجمان نے مہاراشٹر سے دہلی تک کانگریس کی ہار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں آر جے ڈی نے کانگریس پر بھروسہ کیا، لیکن راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس نہ صرف خود ہاری بلکہ اپنے اتحادیوں کا بھی بیڑا غرق کر دیا۔ حسین کے مطابق، تمل ناڈو میں کانگریس کا کوئی ٹھوس عوامی بنیاد باقی نہیں رہا اور راہل گاندھی کے نام پر ووٹ ملنے کے امکانات بھی محدود ہیں۔ ڈی ایم کے کے اندر بھی اس بات پر اب شدید الجھن ہے کہ کیا واقعی کانگریس کو ساتھ لے کر چلنا سمجھداری ہوگی؟

کانگریس کی’ہار کا ریکارڈ‘

انہوں نے دلچسپ مثال دیتے ہوئے کہا، ’’جب ٹیم انڈیا کا سلیکشن ہوتا ہے، تو کھلاڑیوں کا پرانا ریکارڈ دیکھا جاتا ہے۔ اب کانگریس کا ریکارڈ دیکھیں—مہاراشٹر، گجرات اور ہریانہ میں ہار کی ہیٹرک، دہلی میں سناٹا اور بہار میں بھی محدود نشستیں۔ جب کوئی کھلاڑی مسلسل صفر پر آؤٹ ہو رہا ہو، تو اسے ٹیم میں کون رکھے گا؟‘‘  انہوں نے ڈی ایم کے کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں دوبارہ اقتدار میں آنا ہے تو کسی ماہر انتخابی حکمتِ عملی سے رائے ضرور لیں، کیونکہ کانگریس کے ساتھ جانے کا مطلب ہے ’یقینی شکست‘۔

پارلیمنٹ ہنگامہ اور ’جے ایس آر‘ پر طنز

شاہنواز حسین نے نہ صرف اتحاد پر تنقید کی بلکہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوران اپوزیشن کے رویے پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن نے اپنی تمام حدود کو بالائے طاق رکھ دیا ہے اور صدر کے خطاب کے دوران ہنگامہ کو آئینی اداروں کی توہین قرار دیا۔ حسین نے طنز کرتے ہوئے کہا، ’’کانگریس اور ترنمول کانگریس جس سطح کی سیاست کر رہے ہیں، اسے پورا ملک دیکھ رہا ہے۔ انہیں اب رام  کے نام سے بھی چڑھ ہونے لگی ہے۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی مثال لیں، جیسے ہی کوئی ’جے ایس آر‘ بولتا ہے، وہ آگ ببولا ہو جاتی ہیں اور گاڑی سے اتر کر لڑنے لگتی ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

52 minutes ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

1 hour ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

2 hours ago