نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کے متحدہ عرب امارات کے دورے نے بھارت اور یو اے ای کے تعلقات کو نئی مضبوطی فراہم کی ہے۔ جمعہ کو ابو ظہبی میں دونوں ممالک کے درمیان دفاع، توانائی، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے سمیت کئی اہم شعبوں میں بڑے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں میں بھارت میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم مودی اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد دو طرفہ اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری، ایل پی جی سپلائی، اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر اور بھارت کے آر بی ایل بینک، سمان کیپیٹل اور انفراسٹرکچر سیکٹر میں سرمایہ کاری سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
اس کے علاوہ گجرات کے وادینار علاقے میں ایک جدید شپ ریپیئرنگ کلسٹر قائم کرنے کے معاہدے کو بھی حتمی شکل دی گئی، جس سے سمندری تجارت اور شپنگ سیکٹر میں تعاون مزید مضبوط ہونے کی امید ہے۔ابو ظہبی میں وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت ہر صورتحال میں یو اے ای کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ اس اہم سمندری راستے کا “آزاد اور کھلا” رہنا انتہائی ضروری ہے اور تمام ممالک کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران یہ بیان عالمی توانائی سلامتی کے تناظر میں کافی اہم مانا جا رہا ہے۔وزیر اعظم مودی نے یو اے ای کے صدر محمد بن زاید النہیان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور یو اے ای کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جنوری میں یو اے ای صدر کے دورۂ بھارت کے دوران دونوں ممالک نے تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا تھا اور مختصر وقت میں ہی کئی شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں بھارت اور یو اے ای کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور آنے والے وقت میں دونوں ممالک ہر شعبے میں مل کر آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے اثرات پوری دنیا محسوس کر رہی ہے اور مسائل کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی 15 سے 20 مئی تک یو اے ای، نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے پانچ ملکی دورے پر ہیں۔ اس دورے کا مقصد توانائی، دفاع، ٹیکنالوجی، گرین ٹرانزیشن اور تجارت جیسے اہم شعبوں میں بھارت کی عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
امریکا نے جمعرات کو ایک بڑا اور چونکا دینے والا فیصلہ کرتے ہوئے انفوسس، ٹی…
ماں بننے کے بعد کترینہ کیف کے وزن کو لے کر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ،…
نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…
میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…
مہاراشٹر کے ممبئی میں جمعرات کو ایک لیبر کیمپ میں بھیانک آگ لگنے کے بعد…