سینئر صحافی معصوم مرادآبادی کی کتاب ’چہرے پڑھا کرو‘ اور ’نگینے لوگ‘ کا اجرا عمل میں آیا۔
نئی دہلی: سینئر صحافی، ادیب اور خاکہ نگار معصوم مرادآبادی کے خاکوں کے دومجموعوں ’نگینے لوگ‘ اور چہرے پڑھا کرو‘کی رسم رونمائی اہم ادبی اور علمی شخصیات کے ہاتھوں اردوگھرمیں عمل میں آئی۔ انجمن ترقی اردو (ہند) کے زیراہتمام اس تقریب کی صدارت پدم شری پروفیسراخترالواسع نے کی اورمہمان خصوصی کے طورپرسابق رکن پارلیمنٹ اورسفیرم۔ افضل شریک ہوئے۔ اس موقع پر پروفیسر محسن عثمانی ندوی، قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے ڈائریکٹرڈاکٹرشمس اقبال، مزاحیہ شاعرپاپولرمیرٹھی، ڈاکٹراطہرفاروقی، پروفیسرشہزاد انجم، ڈاکٹرنعیمہ جعفری پاشا، صحافی سہیل انجم اورتحسین منورجیسے ناموراہل علم نے دونوں کتابوں اورصاحب کتاب پر تفصیلی گفتگو کی۔
معصوم مرادآبادی کی تحریریں صحافت اور ادب کا حسین امتزاج
ممتاز ادیب اوردانشورپروفیسرمحسن عثمانی ندوی نے کہا کہ ”خاکہ نگاری اردو ادب کی ایک پسندیدہ صنف ہے۔ موجودہ عہد میں جن لوگوں نے اسے اعتبار بخشا ہے، ان میں معصوم مرادآبادی کانام سرفہرست ہے۔ معصوم مرادآبادی بنیادی طورپر صحافی ہیں، لیکن ان کی تحریریں صحافت اور ادب کا حسین امتزاج ہیں۔اب ان کی پہچان صحافی سے زیادہ ایک بہترین انشاء پرداز کے طورپر ہونے لگی ہے۔“ پروفیسر اخترالواسع نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ ”ہم بڑے فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم معصوم مرادآبادی کے عہد میں جی رہے ہیں۔کوئی دن خالی نہیں جاتا کہ ان کے قلم سے کسی شخصیت کا خاکہ یا تذکرہ پڑھنے کونہ ملتا ہو۔ ان کی تحریریں پڑھ کر ابن انشا ء کی یاد آتی ہے۔’نگینے لوگ‘ اور ’چہرے پڑھا کرو‘دونوں ہی کتابیں غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہیں۔“
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نثر میں شاعری کررہے ہیں
سابق ممبر پارلیمنٹ اور سفیر م۔ افضل نے کہا کہ ”مجھے فخر ہے کہ میرے ساتھ ایسے لوگوں نے کام کیا جو آج اردوصحافت اور ادب میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ معصوم مرادآبادی کو میں اس لیے اہمیت دیتا ہوں کہ انھوں نے اپنی محنت، لگن اور ایمانداری سے صحافت اور ادب دونوں میں نام کمایا۔ وہ جتنے اچھے صحافی ہیں، اتنے ہی اچھے ادیب اور خاکہ نگار بھی ہیں۔“عالمی شہرت یافتہ مزاحیہ شاعر ڈاکٹر اعجاز پاپولر میرٹھی نے کہا کہ ”معصوم مرادآبادی کی ادبی تحریروں نے مجھے حددرجہ متاثر کیا ہے اور میں ان کی نثر کا مداح ہوں۔ ان کا پیرایہ اظہار بڑا دلچسپ اور بیانیہ بہت متاثر کن ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نثر میں شاعری کررہے ہیں۔“
معصوم مرادآبادی کی صحافتی، علمی اور ادبی خدمات کا اعتراف
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے مہمان ذی وقار کی حیثیت سے معصوم مرادآبادی کی صحافتی، علمی اور ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بات کہنے کا جوسلیقہ ہے وہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔انھوں نے لوگوں کے ذہنوں پراپنی انشاء پردازی کے گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔وہ تواتر کے ساتھ لکھ رہے ہیں اور ان کے قلم سے بہترین تحریریں منظرعام پر آرہی ہیں۔حال ہی میں قومی اردو کونسل نے بھی ان کی ایک تحقیقی کتاب شائع کی ہے۔“انجمن ترقی اردو (ہند) کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کہا کہ”میں اور معصوم مرادآبادی جدوجہد کے دنوں کے ساتھی ہیں۔ انھوں نے جو اسٹرگل کی ہے اسے دیکھ کر بہت حوصلہ ملتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان کی اگلی کتاب اردو صحافت کی پیچیدہ راہداریوں کا احاطہ کرے گی۔“
بڑی سے بڑی بات کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کرنے کا ہنر
شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر شہزادانجم نے اپنی تقریر میں ’چہرے پڑھا کرو“ اور ”نگینے لوگ“ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ”مجھے معصوم مرادآبادی کے اسلوب نے سب سے زیادہ متاثرکیا ہے۔ زبان وبیان، اسلوب، معلومات اور رشتوں سے ان کے علم وحلم کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ وہ بڑی سے بڑی بات کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔“ سینئر صحافی سہیل انجم نے ”نگینے لوگ“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ کتاب خاکہ نگاری کے باب میں ایک اہم ا ضافہ ہے اور اس میں شامل طنزیہ ومزاحیہ خاکے بہت لطف دیتے ہیں۔“
معصوم مرادآبادی کی صحافت اور خاکہ نگاری میں ایک مماثلت
ممتاز فکشن نگار ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا نے کہا ”معصوم مرادآبادی کی صحافت اور خاکہ نگاری میں ایک مماثلت ہے۔ وہ بہت کم وقت میں کسی شخص کی تصویر کشی بڑی مہارت سے کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں بڑی رنگا رنگی، روانی ہے اور انداز نگارش نہایت سادہ اور دلنشین ہے۔“معروف صحافی اورشاعرتحسین منورنے کہا کہ ”معصوم مرادآبادی کسی شخصیت کا مطالعہ بہت باریک بینی کے ساتھ کرتے ہیں اور ان کی نگاہ ان پہلوؤں تک جاتی ہے جہاں تک عام لکھنے والوں کی رسائی نہیں ہے۔ مجھے سب سے زیادہ ان کی آسان، رواں اور دلچسپ زبان نے متاثر کیا ہے۔“
خطروں سے کھیلنا ہم صحافیوں کا کام: معصوم مرادآبادی
صاحب کتاب معصوم مرادآبادی نے کہا کہ ”زندہ لوگوں پر خاکے لکھنا ایک مشکل کام ہے کیونکہ اس عمل میں آبگینوں کوٹھیس لگنے کا احتمال ہوتا ہے۔ زندہ لوگوں کی تصویرکشی اگرطنزیہ اورمزاحیہ پیرائے میں کی جائے تو یہ ایک جوکھم بھرا کام ہے، لیکن خطروں سے کھیلنا ہی ہم صحافیوں کا کام ہے۔ ان دونوں کتابوں میں جن لوگوں کا تعارف کرایا گیا ہے وہ علمی وادبی دنیا کی اہم شخصیات ہیں۔“
تقریب اجراء کی نظامت معروف شاعراورصحافی معین شاداب نے کی۔ اس موقع پرملک وبیرون ملک کی جن اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں صحافی قربان علی، حسن ضیاء، محمداحمد کاظمی، جاوید اختر، روؤف رامش کے علاوہ پروفیسرخواجہ محمداکرام الدین، پروفیسرسلیم قدوائی، انیس اعظمی، حقانی القاسمی، ڈاکٹرعبدالباری، مرزاجاوید علی، شفیع دہلوی، حسیب احمد، پروفیسرعصمت جہاں، ناصرعزیز ایڈووکیٹ، رئیس احمد ایڈووکیٹ، عبدالرشید انصاری، نجم جاوید عثمانی،ڈاکٹرمحمد آدم، ثروت عثمانی، ڈاکٹرسید احمد خاں، عبدالصمد دہلوی، مولانا صہیب قاسمی کے علاوہ سیدعظمت حسین (مانچسٹر) نوین گری (کناڈا) اسد مولائی (مرادآباد)، ڈاکٹرظہیراحمد خاں اورحاجی خورشید احمد راہی (بلند شہر) کے نام قابل ذکرہیں۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…