چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ کسی لڑکی سے عوامی مقام پر ’’آئی لو یو‘‘ کہنا جنسی زیادتی کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے یہ ریمارکس 24 جولائی کو ایک اپیل پر سماعت کے دوران دیے، جہاں ایک شخص پر جنسی زیادتی، تعاقب (stalking)، عزتِ نفس مجروح کرنے اور ایس سی/ایس ٹی (انسدادِ مظالم) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج تھا۔ یہ معاملہ 14 اکتوبر 2019 کا ہے، جب دھمتری ضلع کے کورُد علاقے میں ایک 15 سالہ لڑکی اسکول سے واپسی پر اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ گھر جا رہی تھی۔ اس دوران ملزم نے مبینہ طور پر لڑکی سے کہا ’’آئی لو یو‘‘۔ لڑکی نے اس واقعے کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی۔
ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ نے استغاثہ کے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ملزم پر الزامات ثابت نہیں ہوئے، جس پر یہ معاملہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ صرف محبت کا اظہار، وہ بھی بھی صرف ایک مرتبہ، جنسی زیادتی، تعاقب یا عزت مجروح کرنے جیسے سنگین الزامات کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ لڑکی کی عمر ثابت کرنے کے لیے کوئی پیدائشی سرٹیفکیٹ، اسکول کا ریکارڈ یا اصل دستاویزات پیش نہیں کیے گئے، لہٰذا ملزم پر POCSO کے تحت جرم بھی ثابت نہیں ہوا۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ملزم کی جانب سے صرف ایک بار ’’محبت کے اظہار‘‘ کو لڑکی یا اس کے ساتھ موجود دوستوں کے بیانات سے بھی جنسی زیادتی یا تعاقب ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ گواہوں اور والدین کے بیانات کی بنیاد پر عدالت نے پایا کہ ایسا کوئی تسلسل یا نیت نظر نہیں آتی جو جرم ثابت کرے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ موجود نہیں، کیوں کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ واقعہ متاثرہ لڑکی کی ذات کی بنیاد پر پیش آیا۔ لہٰذا ہائی کورٹ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کو بری کر دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ نے اپنے پیغام میں راج ماتا کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں…
دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور متعدد مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی…
اس مہم کے دوران بچوں کی صحت اور ان کی غذائی حالت کا جائزہ لینے…
نوراتری کے دوسرے دن عقیدت مند دیوی کو پھولاور روایتی بھوگ پیش کرتے ہیں اور…
شیوراج سنگھ چوہان نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال سے بھی بات…
گزشتہ سال وراٹ کوہلی کی ریڈ بال سے پریکٹس کرتے ہوئے کئی ویڈیوز سامنے آئی…