خماربارہ بنکوی اردوکے ایک مشہوراورہردلعزیزشاعر ہیں جن کا اصل نام محمد حیدرخان تھا۔ انہوں نے 15 ستمبر 1919 کوبارہ بنکی، اتر پردیش میں جنم لیا اور 19 فروری 1999 کو اسی شہر میں وفات پائی۔ انھوں نے اپنی شاعری میں خمارتخلص اختیار کیا۔ ان کے والد ڈاکٹر غلام حیدراورچچا قراربارہ بنکوی بھی شاعرتھے۔
خمارنے مشاعروں میں اپنی خوبصورت آوازاورمنفرد اندازِبیاں کی وجہ سے بہت جلد شہرت حاصل کرلی۔ اسی اثناء میں اردو کے معروف شاعرجگرمراد آبادی سے قربت بڑھنے لگی، چنانچہ ان کی صحبت میں ایک طویل عرصہ گزارا۔ وہ اپنے اندازکلام اورسریلی آوازکی بدولت مشاعروں میں خوب داد سمیٹتے تھے۔ خماربارہ بنکوی جگرمراد آبادی کی طرح کلاسیکل غزل کے پرجوش حمایتی تھے۔ انہوں نے بہت سی ہندی فلموں کے لیے گانے تحریر کئے جو کافی مقبول ہوئے۔ ان کے مجموعہ کلام میں ” آتش تار، رقص مہ، شب تاب” شامل ہیں۔ بھارت ایکسسپریس ان کے ایک بہت اہم شعر کو آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہے۔
بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم
قسطوں میں خود کشی کا مزا ہم سے پوچھئے
خمار بارہ بنکوی
بچوں کو سائنس اور تحقیق کی جانب راغب کرنے کے لیے چین کی منفرد مہم،…
یو اے ای کے صدر کے دیوان میں ترقیاتی امور اور شہید ہیروز کے معاملات…
چنڈی گڑھ میں سات روزہ شریمد بھاگوت کتھا کا اختتام، بی پراک اور اندریش مہاراج…
چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس میں ٹیکنالوجی اور روحانیت کا انوکھا امتزاج، وزیر اعظم نے…
بجلی کی فروخت میں 32 فیصد اضافہ، آپریشنل صلاحیت 20.8 گیگاواٹ تک پہنچی، بیٹری اسٹوریج…
جانچ کے دوران روزانہ 2 لاکھ اسٹینڈرڈ کیوبک میٹر تک گیس کا بہاؤ ریکارڈ، یومیہ…