قومی

Major Relief for Satyendar Jain: دہلی جل بورڈ کیس میں ستیندر جین کو ملی ضمانت، ٹینڈر گھوٹالے میں ہوئی تھی گرفتاری

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (AAP) کے لیڈر اور دہلی کے سابق وزیرِ آب رسانی ستیندر کمار جین کو بڑی راحت ملی ہے۔ راؤز ایونیو کورٹ نے دہلی جل بورڈ (DJB) کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (STP) سے متعلق مبینہ بدعنوانی اور ٹینڈر میں بے ضابطگیوں کے معاملے میں انہیں ضمانت دے دی ہے۔ ستیندر جین کو دہلی حکومت کی اینٹی کرپشن برانچ (ACB) نے اس معاملے میں 18 اگست 2026 کو گرفتار کیا تھا۔ عدالت نے ضمانت دیتے ہوئے 2 لاکھ روپے کے مچلکے کے ساتھ دو ضامن پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سماعت کے دوران ستیندر جین کی جانب سے سینئر وکیل این ہری ہرن نے عدالت میں دلیل دی کہ ایف آئی آر درج ہونے کے تقریباً 27 ماہ بعد ان کے موکل کو گرفتار کیا گیا۔ وکیل کے مطابق اس دوران ستیندر جین کو صرف ایک مرتبہ پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا، تاہم دوبارہ بلائے جانے پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ دفاع کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ معاملے سے متعلق تمام شواہد دستاویزی نوعیت کے ہیں اور تحقیقاتی ایجنسی پہلے ہی متعلقہ دستاویزات اور دیگر مواد اپنے قبضے میں لے چکی ہے۔

اے سی بی نے کیا دلیل دی؟

ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے اے سی بی نے ستیندر جین پر عادی مجرم ہونے کا الزام عائد کیا اور عدالت سے اپیل کی کہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرتے وقت اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ تاہم عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ستیندر جین کو ضمانت دے دی۔ عدالت نے 2 لاکھ روپے کے دو ضامن جمع کرانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ اے سی بی نے اس معاملے میں ستیندر جین سمیت مجموعی طور پر چھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتار کیے گئے دیگر افراد میں دہلی جل بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو افسر اور آئی اے ایس افسر ادیت پرکاش رائے، دہلی جل بورڈ کے سابق کنٹریکچوئل کنسلٹنٹ انکِت سریواستو، اے این انٹرپرائزز کے مالک ناگیندر یادو، یوروٹیک انوائرنمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک راجا کمار کُرّا اور سریجن ہار کے مالک پنکج ورما شامل ہیں۔

2024 میں درج ہوئی تھی ایف آئی آر

یہ معاملہ ایف آئی آر نمبر 10/2024 سے متعلق ہے، جو 11 مئی 2024 کو درج کی گئی تھی۔ ایف آئی آر میں انسدادِ بدعنوانی قانون، 1988 کی مختلف دفعات کے علاوہ آئی پی سی کی دفعات 420، 409، 418 اور 120-B کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی دہلی حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف ویجیلنس کی شکایت کی بنیاد پر شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد کی گئی۔ اے سی بی کے مطابق تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے دستاویزی، الیکٹرانک اور مالی شواہد کی بنیاد پر تمام چھ ملزمان سے پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد 18 اگست 2026 کو انہیں قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

9 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

9 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

10 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

10 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

11 hours ago