وزیر اعظم نریندر مودی نے حیدرآباد ہاؤس میں بلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کی۔ دونوں لیڈروں کی موجودگی میں بھارت اور بلجیم کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (MoU) کا تبادلہ بھی ہوا، جو دفاع سے لے کر خوراک اور کلین انرجی جیسے شعبوں میں کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ویور کا استقبال کرتے ہوئے کہا، ’’وزیر اعظم کے طور پر ان کے پہلے بھارت دورے پر ان کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ یہ ان کا پہلا بھارت دورہ ضرور ہے، لیکن بھارت سے ان کا تعارف پرانا ہے۔ وہ طویل عرصے تک اینٹورپ کے میئر رہے ہیں اور انہوں نے اینٹورپ میں موجود بڑی بھارتی برادری اور بھارت-بلجیم ہیرے کی تجارت کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ بھارت اور بلجیم کے تعلقات کی جڑیں تاریخ میں گہری ہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران بلجیم میں ہزاروں بھارتی فوجیوں کی جرات اور قربانی ہماری مشترکہ یادداشت کا اہم حصہ ہے۔ آج جمہوری اقدار، مارکیٹ اکانومی اور عوام کے درمیان گہرے باہمی تعلقات ہمیں فطری شراکت دار بناتے ہیں۔‘‘
دفاع اور کلین انرجی میں تعاون
ایک دہائی قبل اپنے بلجیم دورے کا ذکر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے مزید کہا، ’’مجھے دس سال پہلے بلجیم جانے کا موقع ملا تھا اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ گزشتہ دہائی میں ہماری شراکت داری نے کتنی شاندار ترقی کی ہے۔ آج ہمارے تعاون کا دائرہ روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر دفاع اور کلین انرجی جیسے اسٹریٹجک شعبوں تک پھیل گیا ہے۔ ہم زوراوار ٹینک جیسے جدید دفاعی سازوسامان پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم آندھرا پردیش کے کاکیناڈا میں دنیا کے سب سے بڑے گرین امونیا منصوبوں میں سے ایک بھی تیار کر رہے ہیں۔‘‘
مختلف شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے پر زور
پی ایم مودی نے مختلف شعبوں میں اس شراکت داری کو مزید وسیع کرنے کی بات بھی کی۔ انہوں نے کہا، ’’آج دنیا ایک بڑی افراتفری کے دور سے گزر رہی ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں تنازعات کی صورتحال برقرار ہے۔ خوراک، ایندھن یا سپلائی چین، ہر شعبے میں غیر یقینی صورتحال کا اثر پڑ رہا ہے۔ اس چیلنجنگ ماحول کے باوجود بھارت کی معیشت نے اپنی رفتار برقرار رکھی ہے۔ گزشتہ کوارٹر میں ہم نے 7.8 فیصد کی گروتھ درج کی ہے۔ آج بھارت کی ترقی کی کہانی دنیا کے لیے اعتماد اور نئے مواقع کا ذریعہ بن رہی ہے۔‘‘
ایف ٹی اے سے اقتصادی تعلقات کے لیے نئے امکانات
وزیر اعظم نریندر مودی نے FTA کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’اس سال کے آغاز میں ہم نے تاریخی بھارت-یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کیا۔ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوری طاقتوں کے درمیان یہ بے مثال تعاون عالمی استحکام، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کو نئی مضبوطی دے گا۔ بھارت کی مسلسل اقتصادی پیش رفت اور اس معاہدے نے ہمارے اقتصادی تعلقات کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھولے ہیں۔ آج ہم نے ان امکانات کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
موڈیز کے تخمینے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے اثرات…
ویٹیکن کے مطابق، 71 سالہ پوپ تقریباً تین گھنٹے آپریشن تھیٹر میں رہے، جبکہ سرجری…
شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور راس…
مارکو روبیو کا دورۂ ہندوستان 18 اکتوبر کی مقررہ مدت کے چند روز بعد ہو…
بہار کے ضلع ویشالی میں راگھوپور کے قریب کشتی بے قابو ہو کر الٹ گئی۔…
کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…