نئی دہلی: شیوسینا (یو بی ٹی) میں ممکنہ بغاوت اور بعض اراکین پارلیمنٹ کے پارٹی چھوڑنے کی قیاس آرائیوں کے درمیان راجیہ سبھا کے رکن سنجے راؤت بدھ کو مبینہ باغی اراکین پارلیمنٹ پر سخت برہم ہوگئے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران نہ صرف سخت الفاظ کا استعمال کیا بلکہ چند گالیاں بھی دیں اور میڈیا سے یہ بھی کہا کہ ان کے ریمارکس کو ایڈٹ یا حذف نہ کیا جائے۔
#WATCH | Delhi | Addressing a press conference over speculations of a split in the party, Shiv Sena UBT MP Sanjay Raut hurls abuses at suspected rebel MPs, asks the media not to cut out his comments pic.twitter.com/eJUk8rINO1
— ANI (@ANI) June 17, 2026
جانا ہے تو پہلے استعفیٰ دو
قومی دارالحکومت نئی دہلی میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے ارکان پارلیمنٹ اروند ساونت اور انل دیسائی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ اگر کسی کو پارٹی چھوڑنی ہے تو پہلے وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے اور پھر عوام کا سامنا کرے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر کسی کو جانا ہے تو استعفیٰ دے کر جائے۔ اگر ہمارے اراکین پارلیمنٹ کے بارے میں ایسی خبریں آرہی ہیں تو انہیں فوراً ان کی تردید کرنی چاہیے۔ اس بار مہاراشٹر کے عوام خاموش نہیں رہیں گے۔‘‘
انل دیسائی نے کیا راؤت کا دفاع
سنجے راؤت کے سخت بیان کے بعد پارٹی کے رکن پارلیمنٹ انیل دیسائی نے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس میں کہی گئی بعض باتیں محض محاوراتی یا جذباتی انداز کی تھیں اور ان کا رخ کسی خاص شخص کی طرف نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، ’’جو کچھ کہا گیا، وہ کسی مخصوص فرد کے لیے نہیں تھا۔ جب کوئی شخص 50 برس عوامی زندگی اور سیاست میں گزارنے کے بعد جذباتی ہو کر بات کرتا ہے تو ایسی باتیں نکل جاتی ہیں۔ خود راوت صاحب نے بھی واضح کیا کہ وہ کسی خاص شخص کو نشانہ نہیں بنا رہے تھے۔‘‘
15 کروڑ روپے کی پیشکش کا الزام
سنجے راؤت نے الزام لگایا کہ پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کے لیے بعض اراکین پارلیمنٹ کو مالی لالچ دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر رکن پارلیمنٹ کو 15 کروڑ روپے پہنچائے گئے، جس کے بعد وہ ناندیڑ، پونے اور دیگر مقامات سے چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے روانہ ہوئے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس اطلاع ہے کہ ہر ایم پی کو 15 کروڑ روپے دیے گئے۔ ہم نے کل ہونے والی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کے لیے وہپ جاری کر دیا ہے، جبکہ اروند ساونت نے لوک سبھا اسپیکر کو بھی خط لکھ دیا ہے۔‘‘
پارٹی نے جتوایا، اب وفاداری بھی نبھائیں
سنجے راؤت نے کہا کہ پارٹی قیادت نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات محنت کی، مالی تعاون کیا اور انہیں عوام کے درمیان کامیاب بنایا۔ اس کے باوجود اگر کوئی پارٹی چھوڑنے کی کوشش کرے گا تو اسے ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ادھو جی اور ہم نے خون پسینہ ایک کرکے انہیں کامیاب بنایا، پیسہ خرچ کیا، انتخابات جتوائے۔ اس کے باوجود اگر ایسی خبریں آئیں گی تو ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ سنجے راؤت نے کہا کہ منتخب نمائندے شیوسینا (یو بی ٹی) کے ٹکٹ پر کامیاب ہوکر پارلیمنٹ پہنچے ہیں، اس لیے اگر وہ پارٹی چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو پہلے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’شیوسینا (یو بی ٹی) ہماری ماں ہے۔ اگر ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا تو اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم ’آپریشن ٹائیگر‘ کے نام پر پارٹی کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کا سیاسی طور پر مقابلہ کریں گے اور اس لڑائی کے لیے دہلی میں ہی موجود رہیں گے۔‘‘ ادھر اطلاعات کے مطابق شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ ارکان پارلیمنٹ بدھ کو صبح 11 بجے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کے تمام لوک سبھا اراکین کا اجلاس 18 جون کو صبح 11 بجے دہلی میں واقع پارلیمانی پارٹی کے دفتر میں طلب کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آر سی بی کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے کے بعد گریس ہیرس یوپی واریئرز میں…
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…