قومی

UBT Crisis: بغاوت کی قیاس آرائیوں کے درمیان پرینکا چترویدی کا بی جے پی پر سخت پلٹ وار، کہا-’’اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ سانپ صرف اپوزیشن کو ہی ڈسے گا‘‘

ممبئی: مہاراشٹر میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے ممکنہ انتشار اور پارٹی کے بعض اراکین پارلیمنٹ کے دوسری جماعت میں جانے کی خبروں کے درمیان شیوسینا (یو بی ٹی) کی رہنما پرینکا چترویدی نے بدھ کے روز بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکمراں جماعت سیاسی توڑ پھوڑ کی سیاست میں مصروف ہے۔

سانپ کی مثال دے کر بی جے پی کو تنبیہ

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں پرینکا چترویدی نے سانپ کی مثال دیتے ہوئے بی جے پی کو خبردار کیا کہ جو سیاسی رہنما دوسری جماعتوں سے لا کر اپنی صفوں میں شامل کیے جا رہے ہیں، ان کے ہمیشہ وفادار رہنے کی امید نہ رکھی جائے۔ انہوں نے لکھا، ’’بی جے پی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ سپولوں کا جھنڈ جمع کرکے انہیں دودھ پلائے گی تو وہ صرف اپوزیشن کو ہی ڈسیں گے۔ آپ کی باری بھی آئے گی، کیونکہ سانپ کی فطرت ہی ڈسنا ہے۔ آج اگر ہماری باری ہے، کل آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔‘‘

شیوسینا (یو بی ٹی) میں ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیاں

پرینکا چترویدی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مہاراشٹر کی سیاست میں یہ قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے کچھ ارکان پارلیمنٹ پارٹی چھوڑ سکتے ہیں۔ تاہم، پارٹی کی جانب سے اب تک کسی بھی قسم کی تقسیم یا بغاوت کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ریاست میں اس وقت ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کی بھی کافی چرچا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شیوسینا (یو بی ٹی) کے نو میں سے سات اراکین پارلیمنٹ مبینہ طور پر ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا کے رابطے میں ہیں اور حکمراں جماعت میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 2022 میں ایکناتھ شندے متعدد اراکین اسمبلی کے ساتھ ادھو ٹھاکرے سے الگ ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں شیوسینا دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔

سنجے راوت کا ’ایم ایس پی‘ والا طنز

ادھر راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے بھی مبینہ سیاسی توڑ پھوڑ پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک رکن پارلیمنٹ کی ’’کم از کم امدادی قیمت (Minimum Support Price)‘‘ 50 کروڑ روپے مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ 15 کروڑ روپے محض ایڈوانس رقم ہے۔  انہوں نے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کی ایک پوسٹ کے جواب میں ایکس پر لکھا، ’’اپنا سپنا منی منی! نہیں، نہیں مہوا جی، ایک ایم پی کی کم از کم قیمت 50 کروڑ روپے ہے۔ 15 کروڑ تو صرف ایڈوانس ہے۔ سچ پوچھیں تو ان لوگوں کی قیمت 50 ہزار روپے بھی نہیں، لیکن شیوسینا اور ترنمول کانگریس کے برانڈ کی وجہ سے ان کی مارکیٹ ویلیو بڑھ گئی ہے۔‘‘

مہوا موئترا کا طنزیہ ردعمل

اس سے قبل منگل کو مہوا موئترا نے بھی سنجے راوت کی پوسٹ پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے مبینہ مالی ترغیبات کا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے لکھا، ’’صرف 15 کروڑ؟ اتنے سستے میں کیوں جا رہے ہیں؟ ہمارے یہاں تو چار کروڑ روپے پیشگی اور باقی مدت کے 36 مہینوں تک ہر ماہ ایک کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔ ہنی پلس منی۔‘‘ تاہم سنجے راوت نے اپنی پوسٹ میں کسی فرد کا نام نہیں لیا، بلکہ منتخب نمائندوں کو مالی لالچ دے کر اپنی طرف مائل کرنے کی مبینہ کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شیوسینا (یو بی ٹی) اور ترنمول کانگریس جیسے سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کی ’’مارکیٹ ویلیو‘‘ ان کی جماعتوں کی وجہ سے بڑھی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Cockroach Janata Party: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو آشوتوش رنکا کا چیلنج، کہا-ابھی تو صرف شروعات ہوئی ہے

آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…

2 hours ago

LPU Student Protest: ایل پی یو میں طلبہ کا احتجاج بے قابو، پولیس کے ساتھ جھڑپ، فگواڑا-جالندھر ہائی وے جام، کئی گاڑیاں میں لگائی آگ

لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…

10 hours ago

Ashok Singhal Birth Centenary: اشوک سنگھل کی جنم صدی پر گونجا ’رام نام‘، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوجوانوں سے کیا اپیل

بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…

11 hours ago