قومی

Sambhal Shahi Jama Masjid Case: سنبھل شاہی جامع مسجد کے کنویں سے متعلق مسلم فریق کا دعویٰ- مذہبی استعمال کے لئے ہے کنواں، سپریم کورٹ نے کہا- سبھی کریں استعمال، 2 ہفتے میں مسجد کمیٹی کو دینا ہوگا جواب

نئی دہلی: اترپردیش کی سنبھل شاہی مسجد کے پاس موجود کنویں کے تنازعہ سے متعلق منگل کوسپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اسی کے بعد اس کنویں کے استعمال اوراس کی لوکیشن یعنی یہ کنواں مسجد احاطہ میں موجود ہے یا نہیں؟ اس معاملے پرسماعت کی گئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا سنجیوکھنہ نے کہا کہ کنواں توعوامی ہے۔ مسجد کمیٹی کے وکیل حذیفہ احمدی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دو ہفتے میں اپنا جواب داخل کریں۔ مسجد کمیٹی کے وکیل حذیفہ احمدی نے کہا کہ کنویں کا استعمال مذہبی مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہاں پانی نہیں ہے، تو اس کی کیا اہمیت ہے؟ کنواں پولیس چوکی کے باہرہے؟ حذیفہ احمدی نے اس پرکہا کہ جی ہاں۔ کنویں کے اوپری حصے کوسیمنٹ سے بند کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پائپ کے ذریعہ مسجد میں کنویں سے پانی لیتے رہے ہیں۔

عدالت نے 2 ہفتے میں مانگا جواب۔

 سنبھل مسجد کنواں تنازعہ معاملے میں سپریم کورٹ نے مسجد کمیٹی سے دوہفتے میں جواب مانگا ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت 2 ہفتے بعد ہوگی۔ مسجد کمیٹی کے وکیل حذیفہ احمدی نے آج سپریم کورٹ کوبتایا کہ کنویں کا استعمال مذہبی مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس پرچیف جسٹس نے پوچھا کہ چونکہ کنویں میں پانی نہیں ہے، تواس کی کیا اہمیت ہے؟ چیف جسٹس نے یہ بھی پوچھا کہ کنواں کہاں ہے؟ مسجد کمیٹی کے وکیل نے بتایا کہ یہ مسجد احاطے کے اندرہے۔

ایڈیشنل سالسٹر جنرل نے کہی یہ بڑی بات

یوپی حکومت کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالسٹرجنرل نٹراجن نے سپریم کورٹ سے کہا کہ نہیں کنواں باہر ہے۔ مسجد کمیٹی کے وکیل نے کہا کہ یہ سیمنٹ سے بند ہے، اسے کبھی اوپرسے نہیں کھولا گیا۔ مسجد کمیٹی کی طرف سے کنویں کے اندرسے ہی پانی نکالا جاتا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دوسروں کوبھی کنویں کا استعمال کرنے دیں۔ حذیفہ احمدی نے کہا کہ یہ مذہبی تقریب کرنے کے بارے میں بھی ہے۔ ایڈیشنل سالسٹرجنرل نے اس پرکہا کہ برائے مہربانی تصویردیکھیں۔ کنواں باہرہے۔ چیف جسٹس نے اس پرکہا کہ یہ کنواں پولیس چوکی کے بغل میں ہے؟ چیف جسٹس نے مسجد کمیٹی سے کہا کہ ٹھیک ہے، جواب داخل کریں۔

کنویں کا پانی سبھی کرسکتے ہیں استعمال: چیف جسٹس

حذیفہ احمدی نے کہا کہ مسجد کمیٹی کے چیئرمین کوجیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے، ان سے ملاقات کرکے جواب داخل کریں۔ اس سے پہلے سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے پاس کنویں کوہری مندرکا کنواں کہنے والے نگرپالیکا کے نوٹیفکیشن پر سپریم کورٹ نے روک لگا دی تھی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کنواں عوامی زمین پرہے اورکوئی بھی اس کا استعمال کرسکتا ہے۔ اس سے پہلے یوپی حکومت نے سپریم کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کی تھی۔ اسٹیٹس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سنبھل جامع مسجد میں کنواں ہے، وہ پبلک لینڈ پرہے۔ مسجد کمیٹی نے غلط تصویرپیش کرکے عدالت کوگمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

2 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

3 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

3 hours ago