قومی

Bengal TMC Political Crisis: ممتا بنرجی کے لئے بڑا جھٹکا، رتبرتا بنرجی کے ساتھ باغی 58 اراکین اسمبلی کو اسپیکر کی منظوری، جانئے اب آگے کیا ہوگا؟

مغربی بنگال کی سیاست میں بڑا الٹ پھیر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ممتا بنرجی کی ٹیم ایم سی ٹوٹ گئی ہے۔ پارٹی سے معطل کئے گئے رتبرتا بنرجی سمیت 58 باغی لیڈران کو اسمبلی اسپیکر نے منظوری دے دی ہے۔ اسپیکر نے رتبرتا بنرجی کو اپوزیشن لیڈرکی منظوری دی۔ رتبرتا بنرجی کی قیادت میں 60 اراکین اسمبلی نے اسپیکر رویندر ناتھ بوس سے ملاقات کرکے ان سے کہا تھا کہ وہ ٹی ایم سی کے اصلی گروپ ہیں اوررتبرتا بنرجی کو اپوزیشن لیڈرکی منظوری دے دی جائے۔ رتبرتا بنرجی کا دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ 60 اراکین اسمبلی ہیں اور وہ اصلی ٹی ایم سی ہیں۔ آخرالزمان کو چیف وہپ بنایا گیا ہے۔

رتبرتا بنرجی ہوں گے بنگال کے اپوزیشن لیڈر

رتبرتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکرنے ترنمول کانگریس کے باغی گروپ کا قانون سازپارٹی کا درجہ دینے کا مطالبہ قبول کرلیا ہے۔ رتبرتا بنرجی، باغی ایم ایل اے سندیپن ساہا اورکئی باغی اراکین اسمبلی نے اسپیکرسے ملاقات کی اور58 اراکین کے دستخط شدہ حمایتی خطوط پیش کئے۔ انہوں نے ایک نئی قیادت کی ٹیم کی تجویزبھی پیش کی، جس میں رتبرتا بنرجی کو قانون سازپارٹی لیڈر، جاوید خان، سندیپن ساہا اورشیولی ساہا کوڈپٹی لیڈراوررگھوناتھ گنج کے ایم ایل اے آخرالزماں کوچیف وہپ بنایا گیا۔

ٹی ایم سی کے بڑے لیڈران میٹنگ سے دور رہے

یہ پیش رفت اسمبلی میں باغی ایم ایل اے کی میٹنگ کے بعد ہوئی ہے۔ منگل (2 جون، 2026) کو وسطی کولکاتا میں سابق وزیراعلیٰ اورترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی طرف سے منعقدہ احتجاج میں کوئی بھی ممبراسمبلی موجود نہیں تھا، جنہوں نے میٹنگ میں شرکت کی۔ دریں اثنا، ترنمول قیادت کے قریبی سمجھے جانے والے لیڈر، جیسے شوبھندیب چٹوپادھیائے، نینا بندیوپادھیائے، مدن مترا اورکنال گھوش، بدھ (3 جون، 2026) کو اسمبلی میں ہونے والی میٹنگ سے دوررہے۔ پارٹی تبدیلی مخالف قانون کے تحت، نااہلی سے بچنے کے لیے الگ ہونے والے گروپ کو قانون ساز پارٹی کے کم ازکم دوتہائی کی حمایت حاصل ہونی چاہئے۔ ترنمول کے 80 اراکین اسمبلی کو دیکھتے ہوئے یہ تعداد 54 ہے۔ اس طرح سے باغی گروپ نے اکثریت حاصل کرلی۔

کلیان بنرجی کی اسپیکر سے اپیل

اسپیکرکولکھے گئے خط میں درخواست کی گئی ہے کہ ان منتخب افراد کواسمبلی کی روایت اورعمل کی بنیاد پراپوزیشن لیڈراوردیگرعہدوں پرتسلیم کیا جائے، جوکئی دہائیوں سے چلی آرہی ہے۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ 2001 میں ہماری پارٹی نے آنجہانی پنکج بنرجی کواپوزیشن لیڈربنانے کی سفارش کی، جسے اس وقت کے اسپیکرنے قبول کرلیا۔ اسی طرح 2006، 2011، 2016 اور2021 میں بھی یہی طریقہ کاراپنایا گیا۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

10 hours ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

12 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

13 hours ago

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

14 hours ago