قومی

PM Modi’s 25 Years: وزیراعظم مودی کے 25 سال، آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا- ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سنہری باب

خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘سے بات کرتے ہوئے آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا، ’’ہم نے پنڈت جواہر لال نہرو کو نہیں دیکھا، اگرچہ ہم نے ان کے بارے میں پڑھا اور سنا ضرور ہے؛ البتہ ہم نے اندرا گاندھی کو دیکھا ہے۔ نریندر مودی کی زندگی کے یہ 25 سال ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ میں ایک نئے باب کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘‘انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیراعظم مودی کی عوامی زندگی کے 25 سالوں کے دوران، بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے مقام اور عالمی شناخت میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہندوستان کا موازنہ پاکستان جیسے ممالک سے کیا جاتا تھا، جبکہ آج اس کا موازنہ چین، روس اور امریکہ جیسی بڑی طاقتوں سے کیا جاتا ہے۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ وزیراعظم مودی کے دورِ اقتدار میں ‘سناتن’ روایات سے متعلق معاملات نے کس طرح عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ انہوں نے شری کالکی دھام، کمبھ اور مہاکمبھ کے ساتھ ساتھ رامیشورم، سومناتھ اور کیدارناتھ جیسے مذہبی مقامات کی مثالیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مذہبی اور ثقافتی مقامات نے عالمی سطح پر ہندوستان کی شناخت کو مضبوط کیا ہے۔ قومی اتحاد کے موضوع پر، انہوں نے آرٹیکل 370 کے خاتمے اور کشمیر کے لال چوک میں ‘وندے ماترم’ گائے جانے کا حوالہ دیا۔ کرشنم نے کہا کہ عوامی زندگی میں وزیراعظم نریندر مودی کا 25 سالہ سفر صرف گجرات تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ انہوں نے اپنی زندگی قوم اور ہندوستان کی مٹی کے لیے وقف کر دی ہے۔ وزیراعظم کو اس سنگِ میل پر مبارکباد دیتے ہوئے — جسے انہوں نے ’سلور جوبلی‘ قرار دیا — کرشنم نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم صحت مند رہیں گے، ملک کی خدمت جاری رکھیں گے اور بالآخر اپنی عوامی زندگی کی ’گولڈن جوبلی‘ بھی منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی کے 25 سال ہندوستانی جمہوریت کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم کی اچھی صحت اور درازیِ عمر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے قوم کی خدمت میں ان کے مسلسل کردار کی امید ظاہر کی۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے ’آکاشوانی‘ کے باہر کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے دھرنے پر بھی ردعمل کا اظہار کیا۔ راہل گاندھی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’راہل گاندھی دھرنے دینے کے ماہر بن چکے ہیں۔ انہیں 2047 تک اس عمل کو جاری رکھنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اگر کانگریس پارٹی کی تباہی کے لیے کوئی ذمہ دار ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

INDIA Alliance Next Move: لنچ کے بعد جنتر منتر کی طرف اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ روانہ، راہل گاندھی بولے-FIR میرے لیے میڈل کی طرح

’ووٹ چوری‘ کے الزامات پر اپوزیشن کے احتجاج کا سلسلہ جاری، کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے…

29 minutes ago

اب مہنگا گیمنگ سیٹ اپ چھوڑیں، 48 روپے سے JioGames پر کھیلیں Cricket 26

Cricket 26 کو JioGames Pro Pass کی گیم لائبریری میں شامل کیا گیا ہے۔ اس…

1 hour ago

Three Tennis Players Killed: سلطان پور میں خوفناک حادثہ، 3 ہونہار ٹینس کھلاڑیوں کی موت، 3 زخمی

یہ حادثہ ایک تیز رفتار ارٹیگا کار کے سڑک کنارے کھڑے ٹرک سے ٹکرا جانے…

1 hour ago

PM Modi’s Political Leadership: مودی کی سیاسی قیادت کے 25 سال مکمل، بیلجیم، نائجیریا اور ڈومینیکن ریپبلک کے لیڈروں  نے دی مبارکباد

نائجیریا کے صدر نے ہندوستان اور نائجیریا کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ…

2 hours ago

PM Modi’s leadership: پی ایم مودی کی قیادت کے 25 سال بھارت کی تبدیلی اور بڑھتی امنگوں کی علامت: سی ایم نائیڈو

نائیڈو نے کہا، حکومت کی قیادت میں مودی کے 25 سال نے ان خوبیوں کو…

4 hours ago