ڈنمارک کی سیاست میں ایک بار پھر میٹے فریڈرکسن کی قیادت پر عوامی اعتماد کا اظہار ہوا ہے اور وہ مسلسل تیسری مرتبہ ملک کی وزیرِاعظم منتخب ہو گئی ہیں۔ اس اہم سیاسی کامیابی پر بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان موجود قریبی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی ہے۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور ڈنمارک کے تعلقات باہمی اعتماد، جمہوری اقدار اور پائیدار ترقی کے مشترکہ عزم پر استوار ہیں اور آنے والے برسوں میں یہ شراکت داری مزید وسعت اختیار کرے گی۔
وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں میٹے فریڈرکسن کو ڈنمارک کی وزارتِ عظمیٰ کا منصب مسلسل تیسری بار سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ اپنی دوست میٹے فریڈرکسن کو اس اہم کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کی قیادت میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔ مودی نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور ڈنمارک کے تعلقات صرف سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ یہ مشترکہ جمہوری اصولوں، باہمی احترام اور پائیدار ترقی کے وژن پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے گزشتہ برسوں میں مختلف شعبوں میں قابلِ ذکر تعاون کیا ہے، جس کے مثبت نتائج دونوں قوموں کو حاصل ہوئے ہیں۔
Congratulations to my friend Ms. Mette Frederiksen on assuming office as the Prime Minister of Denmark for a remarkable third consecutive term.
India and Denmark share an enduring partnership founded on mutual trust, shared values and a common commitment to a sustainable future.…
— Narendra Modi (@narendramodi) June 3, 2026
بھارتی وزیرِاعظم نے خاص طور پر بھارت اور ڈنمارک کے درمیان قائم ’’گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میٹے فریڈرکسن کی قیادت میں اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔ یہ اشتراکِ عمل صاف توانائی، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز، گرین ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی جیسے اہم شعبوں پر مرکوز ہے۔ دونوں ممالک ان شعبوں میں پہلے ہی مشترکہ منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور مستقبل میں اس تعاون کو مزید فروغ دینے کا عزم رکھتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت ڈنمارک کے ساتھ مل کر نئے اقتصادی اور تکنیکی مواقع پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا بلکہ عوامی سطح پر بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ بھارت اور ڈنمارک نے حالیہ برسوں میں گرین انرجی، پانی کے مؤثر انتظام، شہری ترقی، تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ دونوں ممالک کی گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مستقبل کے تعلقات کا بنیادی ستون تصور کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 19 مئی کو وزیراعظم نریندر مودی نے پانچ ممالک کے دورے کے دوران ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں میٹے فریڈرکسن سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات تیسرے بھارت-نورڈک سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، جدید ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق، اسٹارٹ اپس، تعلیمی تبادلوں، دفاع اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم مودی نے ڈنمارک کی کمپنیوں کو گجرات کی گفٹ سٹی میں سرمایہ کاری اور کاروباری موجودگی قائم کرنے کی بھی دعوت دی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…
وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے…
ممتا بنرجی نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، انہوں نے پہلے ہی…
نٹھاری قتل معاملے سے متعلق آخری کیس میں بھی سریندر کولی کو سپریم کورٹ سے…
عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ…