قومی

59th Jnanpith Award: ہندی کے معروف افسانہ نگار اور شاعر ونود کمار شکلا ’’گیان پیٹھ ایوارڈ‘‘ سے سرفراز، ایوارڈ کمیٹی نے کیا اعلان

گیان پیٹھ سلیکشن کمیٹی نے ہندی کے نامور ادیب ونود کمار شکلا کو ہندوستان کے سب سے بڑے ادبی اعزاز سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ ونود کمار کو 59 واں گیان پیٹھ ایوارڈ دیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ شکلا یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے چھتیس گڑھ کے پہلے مصنف بن جائیں گے۔ 88 سالہ افسانہ نگار، شاعر اور مضمون نگار ونود کمار شکلا یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے 12ویں ہندی مصنف ہیں۔

اس ایوارڈ کے ساتھ 11 لاکھ روپے کا نقد انعام، ہندو دیوی سرسوتی کا کانسی کا مجسمہ اور ایک سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔ ایوارڈ کی تفویض کا فیصلہ معروف کہانی کار اور گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ پرتیبھا رے کی صدارت میں ہونے والی گیان پیٹھ سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ کے دوران کیا گیا۔کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ’’ونود کمار شکلا ریاست چھتیس گڑھ کے پہلے مصنف ہوں گے جنھیں اس ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ یہ اعزاز انھیں ہندی ادب کے لیے ان کی بہترین خدمات، تخلیقی صلاحیتوں اور مخصوص اسلوب کے لیے دیا جا رہا ہے۔‘‘ میٹنگ میں موجود سلیکشن کمیٹی کے دیگر ممبران میں مادھو کوشک، دامودر ماؤزو، پربھا ورما، انامیکا، اے کرشنا راؤ، پرفل شیلیدار، جانکی پرساد شرما، اور گیان پیٹھ کے ڈائریکٹر مدھوسودن آنند شامل تھے۔

اپنی مخصوص لسانی ساخت اور جذباتی گہرائی پر مبنی تخلیقات کے لیے مشہور شکلا کو 1999 میں ان کی کتاب ’’دیوار میں ایک کھڑکی رہتی تھی‘‘ کے لیے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ ان کی دیگر ادبی تخلیقات میں ’’نوکر کی قمیص‘‘ (1979) اور ایک شعری مجموعہ ’’سب کچھ ہونا بچا رہےگا‘‘ شامل ہیں۔ ’’نوکر کی قمیص‘‘ پر منی کول نے ایک فلم بھی بنائی تھی۔

اس ایوارڈ کے لیے منتخب ہونے پر شکلا نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا ’’یہ ہندوستانی ادب میں ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور اسے حاصل کرنا میرے لیے بے پناہ خوشی کا لمحہ ہے۔ میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ لکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں اور جب وہ تحریر شائع ہو جاتی ہے تو میں خود کو آزاد محسوس کرتا ہوں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے یہ ایوارڈ ملے گا۔‘‘

1961 میں شروع کیا گیا گیان پیٹھ ایوارڈ پہلی مرتبہ ملیالم شاعر جی سنکارا کروپ کو 1965 میں ان کی نظموں کے انتھولوجی ’’اوداکوزال‘‘ کے لیے دیا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ صرف ہندوستانی مصنفین کے لیے خاص ہے۔ اسے ہندوستان کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ مانا جاتا ہے۔ اردو میں یہ ایوارڈ فراق گورکھپوری، قرۃ العین حیدر، علی سردار جعفری اور شہریار کو تفویض کیا جا چکا ہے۔

بھارت ایکسپرس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Joshimath Helicopter Crash: بدری ناتھ دھام سے واپسی پرہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 6 افراد ہلاک

جس وقت ہیلی کاپٹر بدری ناتھ سے واپس آ رہا تھا، اس دوران علاقے میں…

14 minutes ago

Reliance Jio: موبائل بازار میں ریلائنس جیو کا غلبہ برقرار، ایئرٹیل سے 10 گنا زیادہ موبائل صارفین جوڑے

جیو نے 19 لاکھ  نئے  صارفین جوڑے ، ایئر  ٹیل کے کھاتے میں  صرف 2لاکھ۔ٹرائی…

28 minutes ago

Investigate Sourav Das’s Background: سورو داس کے پس منظر کی جانچ ہو، مدراس ہائی کورٹ میں درخواست پر سی جے پی رہنما کو نوٹس

ہائی کورٹ نے اس معاملے میں متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے…

42 minutes ago