سپریم کورٹ نے روہنگیا پناہ گزینوں کی ملک بدری اور ان کے حالات زندگی، خاص طور پر ان کے بچوں کے تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے حق پر توجہ مرکوز کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت 8 مئی کو مقرر کی ہے۔ جسٹس سوریا کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ اس کیس کی سماعت کریں گے۔ یہ کیس بنیادی طور پر ہندوستان میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک اور ضروری خدمات تک ان کی رسائی کے تعلق سے ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب مفاد عامہ کی ایک عرضی (PIL) میں روہنگیا پناہ گزین بچوں کی تعلیم اور ان کی طبی دیکھ بھال میں درپیش امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے اس سے قبل روہنگیا پناہ گزین بچوں سمیت تمام بچوں کو بلا امتیاز تعلیم فراہم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا تھا۔ اپنی ابتدائی سماعت میں عدالت نے پناہ گزینوں کے حقوق کی وکالت کرنے والی این جی اوز کی طرف سے دائر درخواستوں کا جواب دیتے ہوئے، سرکاری اسکولوں اور ہسپتالوں تک ان بچوں کی رسائی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
حکومت کا موقف
تاہم مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامے میں دلیل دی کہ مہاجرین سمیت غیر ملکی شہری ہندوستانی معاشرے میں مکمل طور پر ضم نہیں ہو سکتے۔ حکومت نے کہا کہ ہندوستانی آئین کی دفعہ 21 کے تحت پناہ گزینوں کو زندگی اور آزادی کا حق حاصل ہے لیکن ہندوستان میں رہنے اور آباد ہونے کا حق نہیں ہے۔ اس کے جواب میں عدالت نے ہدایت کی کہ مہاجر بچوں کو پہلے سرکاری اسکولوں میں داخلہ لینا چاہیے اور اگر انھیں داخلے سے منع کیا جاتا ہے تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
روہنگیا ہیومن رائٹس انیشیٹو کی نمائندگی کرنے والے ایک سینئر وکیل کولن گونسالویز نے عدالت کی اس ہدایت کا خیرمقدم کیا تھا۔ انھوں نے روشنی ڈالی تھی کہ اس فیصلے سے ممکنہ طور پر 500 روہنگیا بچوں کو سرکاری اسکولوں تک رسائی ملے گی۔ انھوں نے آدھار کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان بچوں کے داخلے سے انکار کیے جانے کے معاملے کی بھی نشان دہی کی۔ واضح رہے کہ ان کے پاس UNHCR کارڈ ہوتے ہیں۔ گونسالویز نے زور دے کر کہا کہ آدھار کارڈ کے بغیر یہ بچے تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال سمیت اہم خدمات سے محروم ہیں۔
پچھلے عدالتی فیصلے
دہلی ہائی کورٹ نے اس سے قبل قومی سلامتی اور شہریت کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اسی طرح کی ایک عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ اس کے بعد این جی او نے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا ہے۔ 29 جنوری 2025 کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزاروں سے ان بچوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا تھا، جنھیں اسکولوں میں داخلے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ عدالت آئندہ سماعت میں اس تفصیل کا جائزہ لے گی۔
کیس کا اثر
اس کیس نے قومی سلامتی اور مہاجرین کی انسانی ضروریات کے درمیان نازک توازن کو اجاگر کرتے ہوئے اہم خدشات کو جنم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک، خاص طور پر ہندوستان میں پناہ گزیں بچوں کی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے حقوق کے سلسلے میں ایک تاریخی مثال قائم کر سکتا ہے۔ اس کیس کا نتیجہ ملک میں پناہ گزینوں کے حقوق سے متعلق مستقبل کی پالیسیوں اور قانونی نظیروں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
جنتر منتر پر احتجاج کے پیش نظر ہوٹل لی میریڈیئن کے قریب واقع گول چکر…
سی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپنی تحریک…
نسلی امتیاز کے باعث بھارتی نژاد خاندانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع…
دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…
جزائر انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے سوراج دیپ کا دو…
آئی پی ایس افسر ونئے کمار چوبے کو نمایاں خدمات کے لیے صدر جمہوریہ کے…