قومی

Rahat Indori Death Anniversary: ’’میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو: آسماں لائے ہو، لے آؤ زمیں پر رکھ دو‘‘ یوم وفات پر یادوں میں منفرد لب ولہجے شاعر راحت اندوری

ممبئی: آج راحت اندوری کا نام آتے ہی سب سے پہلے ان کا مقبول شعر ’بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں‘ یاد آتا ہے۔ ان کی شاعری میں زندگی، رشتوں اور عام آدمی کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں کی جھلک نظر آتی تھی۔ مشاعرے کے اسٹیج پر جب وہ اپنی بات کہتے تھے تو سامعین پوری توجہ سے انہیں سنتے تھے۔ انہوں نے شاعری کی دنیا میں اپنی الگ شناخت بنائی، لیکن ان کی شخصیت کا ایک دلچسپ پہلو کھیلوں سے گہری دلچسپی بھی تھا۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں خود بتایا تھا کہ ابتدائی دور میں وہ خود کو ایک کھلاڑی کے طور پر دیکھتے تھے اور ہاکی اور فٹبال دونوں کھیلتے تھے۔ راحت اندوری نے 11 اگست 2020 کو آخری سانس لی۔

یکم جنوری 1950 کو اندور میں پیدائش

راحت اندوری کی پیدائش یکم جنوری 1950 کو مدھیہ پردیش کے اندور میں ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام راحت قریشی تھا۔ آگے چل کر اندور ان کی شناخت کا اتنا بڑا حصہ بن گیا کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ ’اندوری‘ جوڑ لیا۔ ان کا بچپن اندور ہی میں گزرا اور اسی شہر نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ بعد میں ان کی شاعری میں عام لوگوں کی زندگی، شہر اور معاشرے کی بھرپور عکاسی نظر آئی۔

ہاکی اور فٹبال کے میدان میں بھی رہے سرگرم

کھیلوں سے اپنی وابستگی کے بارے میں راحت اندوری نے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’’میں ابتدائی دنوں میں خود کو ایک کھلاڑی کے طور پر دیکھتا تھا۔ میں ہاکی اور فٹبال دونوں کھیلتا تھا۔ میں نے اسکول اور کالج کی سطح پر ان کھیلوں کی ٹیموں کی کپتانی بھی کی۔ اس وقت میرے لیے میدان صرف کھیلنے کی جگہ نہیں تھا، بلکہ قیادت سیکھنے کی جگہ بھی تھا۔‘‘ انہوں نے کہا تھا کہ ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا، ذمہ داری سنبھالنا اور اپنی ٹیم کو آگے لے جانا ان کی شخصیت کا حصہ بن چکا تھا، تاہم وقت کے ساتھ ان کا رجحان اردو ادب اور شاعری کی جانب بڑھتا گیا۔

اردو ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی

راحت اندوری نے اردو ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور آگے چل کر مشاعروں کی دنیا کا ایک بڑا نام بن گئے۔ ان کی شاعری میں عام آدمی کی زبان اور احساسات کی جھلک نمایاں تھی، جس کی وجہ سے لوگ ان سے آسانی سے جڑ جاتے تھے۔ وہ محبت پر لکھتے تو ان کے اشعار دل کو چھو لیتے اور جب معاشرے یا نظام پر قلم اٹھاتے تو ان کے الفاظ میں سوال اور احتجاج صاف دکھائی دیتا تھا۔ انٹرنیٹ کے دور میں راحت اندوری کی پرانی شاعری کو نئی نسل نے بھی خوب پسند کیا۔ غزل ’بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں‘ سوشل میڈیا پر خاصی مقبول ہوئی اور اس کے حوالے سے متعدد میمز بھی بنائے گئے۔ تاہم ان کی اس مقبولیت کے پیچھے کئی دہائیوں کی محنت موجود تھی۔ وہ محض انٹرنیٹ کے ذریعے مقبول ہونے والے شاعر نہیں تھے، بلکہ طویل عرصے تک ملک اور بیرون ملک منعقد ہونے والے مشاعروں میں اپنی منفرد شناخت قائم کر چکے تھے۔

فلموں کے لیے بھی گیت لکھے

راحت اندوری نے فلموں کے لیے بھی گیت لکھے۔ ان کے معروف فلمی گیتوں میں ’عشق‘ فلم کا نغمہ ’نیند چرائی میری‘، ’قریب‘ فلم کا نغمہ ’چوری چوری جب نظریں ملیں‘، ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ میں ’چھن چھن‘ اور ’مرڈر‘ فلم کا نغمہ ’دل کو ہزار بار روکا‘ شامل ہیں۔

11 اگست 2020 کو ہوا انتقال

راحت اندوری کا 70 برس کی عمر میں 11 اگست 2020 کو انتقال ہوگیا۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اگلے ہی روز ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی، جس سے ادبی اور فلمی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

راحت اندور کی شاعری سے منتخب کلام

اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے

یہ سب دھواں ہے، کوئی آسمان تھوڑی ہے

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

***

میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو

آسماں لائے ہو، لے آؤ زمیں پر رکھ دو

اب کہاں ڈھونڈنے جاؤ گے ہمارے قاتل

آپ تو قتل کا الزام ہمیں پر رکھ دو

***

روز تاروں کی نمائش میں خلل پڑتا ہے

چاند پاگل ہے، اندھیرے میں نکل پڑتا ہے

اُس کی یاد آئی ہے، سانسو ذرا آہستہ چلو

دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

***

آج ہم دونوں کو فرصت ہے چلو عشق کریں

عشق دونوں کی ضرورت ہے، چلو عشق کریں

اس میں نقصان کا خطرہ ہی نہیں رہتا ہے

یہ منافعے کی تجارت ہے، چلو عشق کریں

***

اس کی کتھئی آنکھوں میں ہے جنتر منتر سب

چاقو واقو چھریاں وریاں خنجر ونجر سب

جس دن سے تم روٹھیں، مجھ سے روٹھے روٹھے ہیں

چادر وادر تکیہ وکیہ بستر وستر سب

مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی کہاں اب پہلے جیسی ہے

پھیکے پڑ گئے کپڑے وپڑے زیور ویور سب

***

یہ حادثہ تو کسی دن گزرنے والا تھا

میں بچ بھی جاتا تو اک روز مرنے والا تھا

***

ہاتھ خالی ہیں تیرے شہر سے جاتے جاتے

جان ہوتی تو میری جان لٹاتے جاتے

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Xi Jinping to Visit the US: امریکہ جائیں گے شی جن پنگ، جانئے  کیوں چین کو لے کر ٹرمپ نے بدلا مؤقف؟

ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…

40 minutes ago

Balaji Wafers Destroyed Lays: غریب لڑکے سے 4 ہزار کروڑ کی کمپنی تک، بالاجی نے Lay’s کو دی ٹکر

گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…

9 hours ago

Rahul Gandhi Event Row: ’چھاتروں کی گونج‘ میں پی ایم مودی کی مِمی کری پر ہنگامہ، این ڈی اے کا حملہ، اپوزیشن نے کہا- اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…

10 hours ago

Sachkhand Nanak Dham Satsang: سچکھنڈ نانک دھام میں گونجے ’واہے گرو‘ کے جے کارے، سنت لوچن درشن داس جی نے دیا بے لوث خدمت کا پیغام

پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…

10 hours ago

Pricing Carbon To Defend Exports: یورپی ٹیکس کا توڑ بنا بھارت کا ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ سسٹم‘، برآمد کنندگان کو ملے گی بڑی راحت

بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…

10 hours ago