قومی

Umar Khalid Book Launch Clash: جے این یو میں عمر خالد کی کتاب پر بحث کے دوران ہنگامہ، اے بی وی پی اور جے این یو ایس یو کارکنان آمنے سامنے

پیر کے روز جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں عمر خالد کی کتاب ’فریکچرڈ کمیونٹیز: آدیواسی ہسٹری اور پاور کی پولیٹکس‘ پر ایک ڈسکشن پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا اہتمام جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (JNUSU) نے اپنی سطح پر کیا تھا۔ تاہم پروگرام شروع ہوتے ہی اس معالے پر تنازع کھڑا ہوگیا اور اے بی وی پی اور جے این یو ایس یو کے کارکن ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔

اے بی وی پی کی مخالفت کے باوجود پروگرام

دراصل اے بی وی پی کی مخالفت اور پروگرام پر پابندی کے مطالبے کے باوجود جے این یو ایس یو نے کتاب پر بحث کا پروگرام منعقد کیا۔ اسی معاملے پر یونیورسٹی میں تنازع بڑھ گیا۔ جے این یو ایس یو کی جانب سے عمر خالد کی رہائی کا معاملہ بھی اٹھایا جا رہا تھا۔ جے این یو ایس یو نے الزام عائد کیا کہ جے این یو انتظامیہ نے عین وقت پر اس کے زیر اہتمام ہونے والے بک ڈسکشن پروگرام کی اجازت منسوخ کردی تھی۔ طلبہ تنظیم کا کہنا ہے کہ اجازت منسوخ کیے جانے کے باوجود پروگرام کو منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پینلسٹوں سے بدسلوکی کا الزام

جے این یو ایس یو کا دعویٰ ہے کہ اے بی وی پی کارکنوں نے پروگرام کو روکنے کی کوشش کی۔ طلبہ تنظیم نے الزام لگایا کہ اے بی وی پی کارکنوں نے پینلسٹوں کے ساتھ بدسلوکی کی اور مائیک چھیننے کی بھی کوشش کی۔ جے این یو ایس یو کے مطابق دھمکیوں اور رکاوٹوں کے باوجود سیکڑوں طلبہ پروگرام میں شریک ہوئے اور اسے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ تنظیم نے اس دوران عمر خالد جیسے سیاسی قیدیوں کی حمایت بھی دہرائی، جنہیں اس کے مطابق بغیر چارج شیٹ کے جیل میں رکھا گیا ہے۔ جے این یو ایس یو نے یونیورسٹی انتظامیہ اور اے بی وی پی کی سیاست کی بھی مذمت کی۔

انتظامیہ نے اجازت منسوخ کرنے کی کیا وجہ بتائی؟

دوسری جانب یونیورسٹی کے ایک نوٹس کے مطابق بکنگ منسوخ کرنے کی وجہ کچھ اور بتائی گئی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا کہ آڈیٹوریم کے لیے جمع کرائے گئے وینیو ریکویسٹ فارم میں مجوزہ پروگرام سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ پروگرام کی منسوخی سے متعلق خط جوائنٹ رجسٹرار کی جانب سے جاری کیا گیا تھا، جبکہ اسکول آف سوشل سائنسز (SSS) کے ڈین نے اسے منظوری دی تھی۔ اس طرح عمر خالد کی کتاب پر منعقد ہونے والے پروگرام نے جے این یو میں ایک بار پھر طلبہ سیاست اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق بحث کو تیز کردیا ہے۔ ایک طرف جے این یو ایس یو نے اسے طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے پروگرام کی اجازت منسوخ کرنے کے لیے دستاویزی وجہ پیش کی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Test Match: ٹیسٹ: شانتو اور رحیم کی جوڑی نے افغانستان کے خلاف 159 رنز جوڑے، تیسرے دن تک بنگلہ دیش کو 329 رنز کی برتری

بنگلہ دیش نے دوسری اننگز میں 6 وکٹوں پر 223 رنز بنائے، حسن محمود نے…

25 minutes ago

Ranji Trophy 2026-27: رنجی ٹرافی، بھارتی فاسٹ بولر محمد شامی کا پھر چلا جادو، سمرن کی سنچری، راہل اور یشسوی فلاپ

محمد شامی نے رنجی ٹرافی 27-2026 میں ایک بار پھر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے…

26 minutes ago

Russia Ukraine Energy Ceasefire: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑا اعلان، روس اور یوکرین کے درمیان ’انرجی سیز فائر‘ نافذ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی…

60 minutes ago

Rahul Gandhi Announces Supreme Court March: راہل گاندھی کی سپریم کورٹ تک مارچ کی اپیل، چیف جسٹس کو سونپا جائے گا میمورنڈم

سی ای سی گیانیش کمار کے استعفے اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف 12 اکتوبر…

1 hour ago

PM Modi Fishermen Project: وزیر اعظم مودی کا ماہی گیروں کو بڑا تحفہ، ہزاروں کروڑ روپے کے منصوبوں کو منظوری، چنئی فشنگ ہاربر ہوگا جدید

پی ایم متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت مچھلی کی پیداوار، کولڈ اسٹوریج اور سمندری خوراک…

1 hour ago