قومی

Nita Ambani Honoured with AAPI Humanitarian Award: امریکہ میں نیتا امبانی کو اے اے پی آئی ہیومینیٹیرین ایوارڈ سے نوازا گیا، پیش کی گئی ٹمپا شہر کی اعزازی چابی

ٹمپا: ریلائنس فاؤنڈیشن کی بانی اور چیئرپرسن نیتا امبانی کو صحت، تعلیم، کھیل، ثقافت اور سماجی خدمت کے شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران باوقار اے اے پی آئی ہیومینیٹیرین ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز امریکن ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف انڈین اوریجن کی جانب سے دیا جاتا ہے، جبکہ ٹمپا کی میئر جین کاسٹر نے نیتا امبانی کو یہ ایوارڈ پیش کیا۔

ٹمپا شہر کی دی گئی اعزازی چابی

تقریب کے دوران ٹمپا کی میئر جین کاسٹر نے نیتا امبانی کو ٹمپا شہر کی اعزازی چابی بھی پیش کی، جو امریکہ کے اعلیٰ ترین شہری اعزازات میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ علامتی اعزاز ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے انسانیت کی خدمت میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہو اور جن کے لیے شہر اپنے دروازے کھلے ہونے کا پیغام دیتا ہے۔

ریلائنس فاؤنڈیشن کی خدمات کا اعتراف

ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اعزاز نیتا امبانی کی صحت، تعلیم، کھیل، ثقافت اور سماجی ترقی کے میدانوں میں غیر معمولی خدمات کے ساتھ ساتھ ہمدردی، وقار اور خدمتِ خلق کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کا اعتراف ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ریلائنس فاؤنڈیشن کے ذریعے نیتا امبانی نے مختلف شعبوں میں جامع ترقی کو فروغ دینے اور لاکھوں افراد کی زندگی بہتر بنانے کے لیے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔

نیتا امبانی کو ملا سال کا دوسرا بڑا اعزاز

یہ رواں سال نیتا امبانی کو ملنے والا دوسرا بڑا انسانی خدمت کا اعزاز ہے۔ اس سے قبل مارچ میں اوڈیشہ کے شہر بھونیشور میں واقع کلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا تھا۔ یہ اعزاز سری لنکا کے نوبیل انعام یافتہ پروفیسر موہن مناسنگھے نے ایک خصوصی تقریب میں انہیں پیش کیا تھا۔

کیا ہے اے اے پی آئی؟

امریکن ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف انڈین اوریجن، جس کا قیام 1982 میں عمل میں آیا، امریکہ میں ہند نژاد ڈاکٹروں کی ایک نمایاں تنظیم ہے۔ اس کا مقصد ہند نژاد ڈاکٹروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا، ان کے پیشہ ورانہ حقوق کا تحفظ کرنا اور تعلیمی و پیشہ ورانہ ترقی میں معاونت کرنا ہے۔ تنظیم کے مطابق، 60 اور 70 کی دہائی میں امریکہ منتقل ہونے والے ہند نژاد ڈاکٹروں کو نئے طبی نظام میں خود کو ہم آہنگ کرنے، اسناد کی منظوری اور پیشہ ورانہ انضمام جیسے کئی چیلنجز کا سامنا تھا، جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے اس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

11th Whiteswan Responsible Art Festival: 11واں وائٹ سوان آرٹ فیسٹیول: کتھک رقاصہ سنیہا مکھرجی نے مسحور کن پیشکش سے باندھا سماں

سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…

1 hour ago

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

17 hours ago