بنگلورو: کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا کے استعفیٰ کے بعد کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر اور نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے وزیراعلیٰ بننے کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اس دوران ڈی کے شیوکمار نے سدارامیا کے دور حکومت اور ان کے سیاسی سفر کی ستائش کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک جذباتی پوسٹ شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کرناٹک کے عوام کے لیے اس سفر کو مل کر آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
سدارامیا کی جدوجہد کو خراج تحسین
ڈی کے شیوکمار نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’ایشور کسی کو ’وردان‘ یا ’شراپ‘ نہیں دیتا، وہ صرف مواقع فراہم کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم ان مواقع کا کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ سدارامیا کی زندگی اس سوچ کی بہترین مثال ہے۔ میسورو کے ایک عام گاؤں سے نکل کر کرناٹک کے وزیراعلیٰ بننے تک ان کا سفر عزم، محنت اور سماجی انصاف کے تئیں غیر متزلزل وابستگی کا ثبوت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے موقع پر وہ کرناٹک کے عوام کے لیے سدارامیا کی برسوں کی خدمات اور قیادت پر دلی شکریہ اور گہرے احترام کا اظہار کرتے ہیں۔
عوامی فلاحی منصوبوں کا ذکر
شیوکمار نے کہا کہ سدارامیا کے دور حکومت میں شروع کی گئی متعدد عوامی فلاحی اسکیمیں اور ترقیاتی اقدامات کرناٹک کی ترقی کی تاریخ میں ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ انہوں نے لکھا، ’’تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط عوامی زندگی کے دوران سدارامیا نے عوامی مرکز حکمرانی اور جامع قیادت کے ذریعے ریاست کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو مضبوط شکل دی ہے۔‘‘
پارٹی کو مضبوط بنانے میں مشترکہ جدوجہد
کے پی سی سی صدر نے کہا کہ جب سے انہیں 2020 میں پارٹی صدر کی ذمہ داری سونپی گئی، سدارامیا ہمیشہ ایک مضبوط ستون کی طرح ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے مل کر پارٹی کو مضبوط بنانے اور اس کے نظریے کو عوام تک پہنچانے کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا ہے۔‘‘
سدارامیا کی رہنمائی کو بتایا قیمتی سرمایہ
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ نائب وزیراعلیٰ کے طور پر سدارامیا کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے ایک اعزاز رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سدارامیا کے تجربے، بصیرت اور دانشمندی سے انہیں مسلسل سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں بھی سدارامیا کی رہنمائی کرناٹک کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے سبھی کو حوصلہ اور طاقت فراہم کرتی رہے گی۔
دور تک جانا ہو تو ساتھ چلنا ہوگا: ڈی کے
اپنے پیغام کے اختتام پر شیوکمار نے ایک کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’تیزی سے چلنا ہو تو اکیلے چلو، دور تک جانا ہو تو ساتھ چلو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ کرناٹک کے عوام کی خدمت اور ریاست کی ترقی کے سفر کو مل کر آگے بڑھانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…