آر بی آئی کا بڑا فیصلہ، پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کا لائسنس منسوخ، قواعد کی خلاف ورزی کا الزام
ممبئی: بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے ایک اہم اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے پے ٹی ایم پیمنٹس بینک لمیٹڈ کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق مذکورہ بینک نے اپنے لائسنس سے متعلق لازمی ضوابط اور شرائط کی مسلسل خلاف ورزی کی، جس کے باعث یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی۔ آر بی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بینک کا لائسنس بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 کی دفعہ 22(4) کے تحت 24 اپریل کو کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کو فوری طور پر کسی بھی قسم کی بینکاری خدمات فراہم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مرکزی بینک نے واضح کیا کہ ایکٹ کی دفعات 5(بی) اور 6 کے تحت اب یہ ادارہ کسی بھی طرح کے بینکنگ آپریشن انجام نہیں دے سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی آر بی آئی نے اعلان کیا ہے کہ بینک کو باضابطہ طور پر بند کرنے (وائنڈنگ اپ) کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا تاکہ قانونی تقاضے مکمل کیے جا سکیں۔ آر بی آئی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کی موجودہ حالت میں اسے جاری رکھنا نہ تو عوامی مفاد میں ہے اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا فائدہ متوقع ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق ادارے کی جانب سے ضوابط کی خلاف ورزیوں نے مالیاتی نظام کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کے پیش نظر یہ سخت اقدام ضروری تھا۔
تاہم، صارفین کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے آر بی آئی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بینک کے پاس اتنی لیکویڈیٹی موجود ہے کہ وہ اپنے تمام کھاتہ داروں کی جمع شدہ رقم واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اعلان کے بعد صارفین میں پائے جانے والے خدشات کو کسی حد تک کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کے خلاف کارروائی کی گئی ہو۔ اس سے قبل 11 مارچ 2022 سے بینک کو نئے صارفین کو شامل کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ بعد ازاں 31 جنوری 2024 اور 16 فروری 2024 کو بھی مختلف پابندیاں عائد کی گئیں، جن میں موجودہ کھاتوں میں رقم جمع کرنے اور والیٹ میں ٹاپ اپ جیسی سہولیات پر روک شامل تھی۔
ماہرین کے مطابق آر بی آئی کا یہ فیصلہ مالیاتی شعبے میں شفافیت اور ضابطہ کاری کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں دیگر مالیاتی اداروں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہیں کہ قواعد و ضوابط کی پابندی ناگزیر ہے۔ فی الحال، تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ بینک کی بندش کا عمل کس طرح مکمل کیا جائے گا اور صارفین کو ان کی رقوم کی واپسی کس طریقہ کار کے تحت کی جائے گی۔ مرکزی بینک نے یقین دلایا ہے کہ اس عمل کو شفاف اور منظم انداز میں مکمل کیا جائے گا تاکہ عوام کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کارتک کے خاندان کے کھیت تمسا ندی پر منحصر ہیں۔ ندی میں بڑھتی ہوئی گندگی…
راگھو چڈھا نے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن…
آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…
بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…