مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔
بھارت-پاکستان سرحد سے متصل راجستھان کے علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مرکزی حکومت نے ایک بڑا اور جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس نئی پہل کو ’360 ڈگری سکیورٹی منصوبہ‘ نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد دراندازی، غیر قانونی سرگرمیوں، سائبر جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے چیلنجز کے خلاف بیک وقت سخت کارروائی کرنا ہے۔بیکانیر میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے خود اس منصوبے کا جائزہ لیا۔ اس اجلاس میں سرحدی سکیورٹی ڈھانچے کو نئے سرے سے مضبوط بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ میٹنگ میں بارڈر سکیورٹی فورس (BSF)، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB)، سی بی ڈی ٹی، راجستھان پولیس اور کئی دیگر مرکزی ایجنسیوں کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے پانچ سرحدی اضلاع کے ڈی ایم اور ایس پی بھی اجلاس کا حصہ بنے۔
سرحد پر غیر قانونی تعمیرات اور دراندازی پر سختی
اجلاس میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا کہ سرحد سے 15 کلومیٹر کے دائرے میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی تعمیرات برداشت نہیں کی جائیں گی۔ وزیر داخلہ نے واضح ہدایات دی ہیں کہ ایسے تمام ڈھانچوں کی فوری نشاندہی کی جائے اور انہیں ہٹانے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔ اس معاملے میں ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اپنانے کو کہا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی دراندازی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے معاملات پر بھی سخت نگرانی رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سرحد پر کسی بھی مشتبہ سرگرمی کو روکنے کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ بی ایس ایف اور ریاستی پولیس جیسی ایجنسیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس کے لیے مشترکہ بارڈر مینجمنٹ سسٹم کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا، تاکہ خفیہ معلومات تیزی سے شیئر کی جا سکیں اور فوری کارروائی ممکن ہو۔
سائبر جرائم اور فرضی نیٹ ورکس پر بھی نظر
صرف سرحدی سکیورٹی ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل فراڈ اور سائبر جرائم کے معاملے پر بھی اجلاس میں سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ ضلع مجسٹریٹس کو اب شیل کمپنیوں، میول اکاؤنٹس اور مشتبہ لین دین کے خلاف فوری کارروائی کے زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جعلی آدھار کارڈ بنانے والے نیٹ ورکس اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے قومی ہیلپ لائن ’1930‘ کے بہتر استعمال پر بھی زور دیا گیا، تاکہ عام لوگ فوری مدد حاصل کر سکیں اور شکایات پر تیزی سے کارروائی ہو۔وزیر داخلہ نے حال ہی میں نافذ کیے گئے نئے فوجداری قوانین کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، انتظامیہ اور مرکزی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے، تبھی ان قوانین کے اثرات زمینی سطح پر نظر آئیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر پولیس محکمہ میں نظم و ضبط اور وردی کے…
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…