قومی

Rahul Gandhi’s question on Odisha incident: ’’عام شہری کس سے مدد کی امید رکھے…؟‘‘ اڈیشہ میں فوجی افسر کی منگیتر کے ساتھ بربریت پر راہل گاندھی کا سوال

نئی دہلی: اڈیشہ کی راجدھانی بھونیشور میں ایک فوجی افسر کی منگیتر کے ساتھ مبینہ بربریت اور جنسی تشدد کے معاملے پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ریاست کی بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں خواتین کے خلاف جرائم مکمل طور پر بے قابو اور آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ پوری انسانیت کے لیے شرمناک ہے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا، ’’اڈیشہ میں پیش آنے والے خوفناک واقعے نے ملک کی امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ پولیس سے مدد لینے گئے ایک فوجی اہلکار کو وحشیانہ طریقے سے مارا پیٹا گیا اور ان کی منگیتر کو حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ پوری انسانیت کے لیے شرمناک ہے۔

انہوں نے مزید لکھا، ’’بی جے پی حکومت میں خواتین کے خلاف جرائم مکمل طور پر بے قابو ہو چکے ہیں۔ جب حکومتی نظام میں ہی ناانصافی پروان چڑھتی اور اسے پناہ ملتی ہے تو پھر عام شہری کس سے مدد کی امید رکھے؟ اس واقعہ کے تمام مجرم سخت ترین قانونی سزا کے مستحق ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کرکے ہندوستان کی عوام بالخصوص خواتین کے سامنے انصاف اور تحفظ کی مثال پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی اڈیشہ کے واقعہ پر بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایکس پوسٹ میں لکھا، ’’اڈیشہ میں پولیس سے مدد گئی ایک فوجی افسر کی منگیتر کے ساتھ پولیس نے جس طرح ظلم اور جنسی تشدد کیا اس سے پورا ملک حیران ہے۔ ایودھیا میں اجتماعی عصمت دری کی گئی دلت لڑکی کے ساتھ پولیس نے ناانصافی کا برتاؤ کیا اور انصاف فراہم کرنے کے بجائے اس پر دباؤ ڈالا کیونکہ اطلاعات کے مطابق ملزمان کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ ملک بھر میں بی جے پی کی حکومتیں پولیس کو رکشک سے بھکشک بنا دینے کی پالیسی پر کام کر رہی ہیں۔ بی جے پی حکومتوں میں خواتین کے خلاف جرائم کے تئیں پولیس کا مجرمانہ رویہ دراصل اقتدار میں رہنے والوں کی سرپرستی کی وجہ سے پروان چڑھتا ہے۔ ایسے میں ملک کی خواتین سیکورٹی اور انصاف کے لیے کیا کریں، کہاں جائیں؟

دوسری طرف، اڈیشہ کے سابق سی ایم اور بی جے ڈی کے سربراہ نوین پٹنائک نے ایک ایکس پوسٹ میں لکھا، ’’بھرت پور تھانے میں فوج کے ایک میجر اور ایک خاتون کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا وہ حیران کن اور سمجھ سے باہر ہے۔ پولیس نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا اس سے ملک کے ضمیر کو جھٹکا لگا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اڈیشہ کی بی جے پی حکومت اس گھناؤنے فعل میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے گی۔ میں اس سنگین واقعہ کی عدالت کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تحقیقات اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Abhijit Deepke, founder of CJP: کس خاتون نے ابھجیت دیپکے کی پیشانی چومی؟ جذباتی ہو کر بولے، میرا نیا خاندان

ابھجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے بنگلورو میں ملنے والی…

30 minutes ago

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

11 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

11 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

11 hours ago