قومی

راہل گاندھی کی جان کو خطرہ، عدالت میں کیا بڑا دعویٰ- مہاتما گاندھی کے قتل کا ذکر کرکے کہی یہ بڑی بات

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اورکانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ پونے کی خصوصی عدالت میں پیشی کے دوران ان کی جان کوخطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویرساورکر پرمیرے بیان کی وجہ سے میری جان کوخطرہ ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دولیڈروں نے مجھے دھمکی دی تھی۔ پیشی کے دوران راہل گاندھی نے اضافی سیکورٹی کا مطالبہ کیا۔ دراصل، یہ معاملہ ویرساورکرکے خلاف مبینہ ہتک آمیزتبصرہ سے متعلق ہے، جس میں شکایت کنندہ ستیاکی ساورکرنے راہل گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔

راہل گاندھی کی جانب سے وکیل ملند دتاتریے پوارنے عدالت میں تحریری درخواست دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ ناتھورام گوڈسے اور گوپال گوڈسے کی اولاد ہے، جن کی تاریخ پُرتشدد سرگرمیوں سے جڑی رہی ہے۔ کیل ملند دتاتریے پوارنے الزام لگایا کہ موجودہ سیاسی ماحول اورکچھ لیڈروں کے متنازعہ بیانات کی وجہ سے راہل گاندھی کی جان کوشدید خطرہ ہے۔ عدالت نے اس درخواست کوریکارڈ پرلے لیا ہے۔

شکایت کنندہ ناتھو رام گوڈسے کی اولاد

 یوپی کے رائے بریلی سے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ شکایت کنندہ ناتھورام گوڈسے اورگوپال گوڈسے کی اولاد ہیں، جن کی تاریخ پُرتشدد سرگرمیوں سے جڑی رہی ہے۔ اس دوران راہل گاندھی نے رونیت سنگھ بٹو اورترویندر سنگھ ماروا کا بھی ذکر کیا۔

رونیت سنگھ بٹو نے راہل گاندھی کوکہا تھا دہشت گرد

راہل گاندھی کی عرضی میں رونیت سنگھ بٹو کا نام ہے۔ رونیت سنگھ بٹو نے راہل گاندھی کو ملک کا نمبرایک دہشت گرد کہا تھا۔ اس کے علاوہ عرضی میں بی جے پی لیڈر ترویندرسنگھ ماروا کا بھی نام ہے۔ ماروا نے بھی راہل گاندھی کودھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ راہل گاندھی کا حال دادی (اندرا گاندھی) جیسا ہوگا۔ راہل گاندھی کے وکیل نے عدالت سے گزارش کی کہ سماعت کے دوران راہل کو اضافی سیکورٹی مہیا کرائی جائے۔

ویرساورکر کے پوتے نے درج کی تھی شکایت

وی ڈی ساورکر کے پوتے ستیاکی ساورکرنے راہل گاندھی کے خلاف پونے کورٹ میں شکایت درج کی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ راہل گاندھی نے لندن میں ایک تقریرمیں دعویٰ کیا تھا کہ ساورکرنے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے اوران کے دوستوں نے ایک مسلم شخص کی پٹائی کی اورانہیں اس پرخوشی ہوئی۔ ستیاکی ساورکرنے اسے جھوٹا بتایا کیونکہ ایسا کوئی حادثہ یا کتاب کا ذکرویرساورکرکی کمپوزیشنزمیں نہیں ہے۔

ناسک اور لکھنؤ میں بھی معاملے

وہیں، ’بھارت جوڑویاترا‘ کے دوران راہل گاندھی نے ویرساورکر پرتبصرہ کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ویرساورکرنے انگریزوں سے پنشن لی اورڈرکی وجہ سے معافی کی عرضیاں لکھیں۔ ان بیانوں کی بنیاد پرناسک میں دیویندربھوتڑا اورلکھنؤ میں وکیل نرپیندرپانڈے نے راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کے معاملے درج کئے۔ ناسک کورٹ نے راہل گاندھی کو 15 ہزار روپئے کے مچلکے پرضمانت دی جبکہ لکھنؤکے معاملے میں سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کو وارننگ دی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ ساورکرپرآگے اس طرح کی توہین آمیز تبصرہ نہ کریں۔

 بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

51 minutes ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

2 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

2 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

3 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

3 hours ago