تروچیراپلی (تمل ناڈو): کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے مرکز کی نریندر مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے خواتین کے ریزرویشن بل کو محض ایک ’’پردے‘‘ (Camouflage) کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اصل میں حلقہ بندی (Delimitation) سے متعلق قانون کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر اس ’’خطرناک منصوبے‘‘ کو ناکام بنا دیا۔
انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش
تروچیراپلی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کا اصل مقصد خواتین کو سیاسی نمائندگی دینا نہیں بلکہ ملک کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا تھا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے تحت جنوبی ہند، شمال مشرقی ریاستوں اور چھوٹی ریاستوں کی نمائندگی کم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا ’’پارلیمنٹ میں جو خواتین بل پیش کیا گیا، اس کا مقصد دراصل اسے پاس کرانا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے حلقہ بندی بل کو خاموشی سے منظور کروانا تھا۔ وہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور متحد ہوکر حکومت کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا، جسے انہوں نے جمہوری ڈھانچے کے لیے خطرہ قرار دیا۔
اپوزیشن کا مشترکہ موقف
اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ خواتین کے لیے ریزرویشن کی وہ حمایت کرتے ہیں، لیکن اسے حلقہ بندی کے عمل سے جوڑنا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے وفاقی ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے اور مختلف ریاستوں کے درمیان نمائندگی کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ مجوزہ آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا، جس کے باعث وہ منظور نہیں ہو پایا۔ اس کے بعد سے سیاسی ماحول کافی گرم ہو گیا ہے اور حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر ذاتی نوعیت کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے اپنی شبیہ بچانے کے لیے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچایا اور امریکہ کے سامنے جھک گئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے نتیجے میں ملک کے کسانوں، مزدوروں، چھوٹے کاروباری طبقے اور توانائی کے شعبے کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ عالمی طاقتیں ہندوستانی قیادت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
بی جے پی کا جوابی حملہ
دوسری جانب بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے اپوزیشن کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’خواتین مخالف‘‘ قرار دیا ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے خواتین کو سیاسی نمائندگی دینے کے ایک تاریخی موقع کو ضائع کیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ بل 2029 کے عام انتخابات سے خواتین کو پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں مناسب نمائندگی دینے کے لیے ایک اہم قدم تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی کا یہ تنازع آنے والے دنوں میں قومی سیاست کا مرکزی موضوع بن سکتا ہے۔ ایک طرف حکومت اسے خواتین کے حقوق سے جوڑ کر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، تو دوسری طرف اپوزیشن اسے وفاقی ڈھانچے اور ریاستی حقوق کے تناظر میں پیش کرے گی۔ یہ معاملہ نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ عوامی سطح پر بھی بحث کا موضوع بن چکا ہے، اور امکان ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ ایک بڑا سیاسی ایشو بن کر سامنے آئے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دھامرا پورٹ کو قابل تجدید بجلی فراہم کرنے کے لیے کیپٹیو رینیو ایبل پاور، تھرڈ…
اپنے امریکہ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ مجھے…
انوپریا نے کہا کہ سنیل لوگوں کی محبت کو محسوس تو کر سکتے ہیں، لیکن…
بھارتی ریلوے کی جانب سے ایل این جی ڈوئل فیول ٹیکنالوجی اپنانا ایندھن کی کارکردگی…
اتوار کے روز جھارکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ مدھیہ…
غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…