قومی

’ٹرول کرنا بند کرو‘، کریتی سینن کی حمایت میں آئے راہل گاندھی، کہا- خواتین کیا پہنتی ہیں، یہ ان کی پسند

نئی دہلی: بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینن کو ایک اشتہارمیں پہنے گئے لباس کی وجہ سے سوشل میڈیا پرٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ معاملہ بڑھنے کے بعد لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈراور کانگریس کے سابق صدرراہل گاندھی نے کریتی سینن کی حمایت کرتے ہوئے خواتین کی آزادی اوراپنی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کے حق کی بات کی ہے۔

راہل گاندھی نے کریتی سینن کی انسٹاگرام اسٹوری اپنے اکاؤنٹ پرشیئرکرتے ہوئے لکھا، ’’خواتین کیا پہنتی ہیں، کیا کرتی ہیں اورکہاں جاتی ہیں، یہ ان کی اپنی پسند ہے۔ خواتین کواپنی آزادی استعمال کرنے پرٹرول کرنا بند کریں۔‘‘ انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ پدرانہ نظام کے خاتمے سے متعلق ہیش ٹیگ ’Smash the Patriarchy‘ بھی استعمال کیا۔

کس اشتہارپرشروع ہوا تنازعہ؟

دراصل، زیورات کے برانڈ ’زیوا‘ کے رکشا بندھن سے متعلق ایک اشتہارمیں کریتی سینن نظرآئی تھیں۔ اشتہارمیں اداکارہ نے بھائی کا کردارادا کرنے والے ایک لڑکے کی کلائی پرراکھی باندھی۔ اس دوران انہوں نے آف وائٹ رنگ کا انڈو ویسٹرن لباس پہن رکھا تھا، جس میں بریلیٹ اسٹائل بلاؤز، ڈریپڈ اسکرٹ اورکیپ شامل تھے۔ اشتہارسامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پراس سے متعلق صارفین مختلف گروپوں میں بٹ گئے۔ کچھ صارفین نے اداکارہ کے لباس پراعتراض کرتے ہوئے انہیں ٹرول کیا، جبکہ کئی لوگوں نے کریتی سینن کی حمایت بھی کی۔

کریتی سینن نے بھی ٹرول کرنے والوں دیا جواب

کریتی سینن نے خود بھی ٹرولنگ کا جواب دیتے ہوئے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا، ’’ثقافت کپڑوں میں نہیں، دل میں ہوتی ہے، کپڑوں کی نیک لائن میں نہیں۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر خواتین کویہ بتانا کب بند کیا جائے گا کہ انہیں کیا پہننا چاہیے۔ اداکارہ نے کہا کہ وقت کے ساتھ روایتی فیشن میں تبدیلی آئی ہے، لیکن آج بھی خواتین کی اپنی ثقافت کے تئیں احترام کو ان کے لباس کی بنیاد پرجانچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کرتی سینن نے یہ بھی کہا کہ تہواروں کی اہمیت صرف لباس تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ان سے وابستہ جذبات، روایات اوررشتوں میں ہوتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

11 hours ago