قومی

Jantar Mantar Protest: صحافیوں کے لیے دہلی پولیس کی گائیڈ لائن، یوزر بولے- پہلے خود اپنی نیم پلیٹ لگائیے

نئی دہلی : نئی دہلی میں جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر احتجاج جاری ہے۔ اس دوران کئی آزاد صحافیوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان بحث، جھڑپ اور مبینہ طور پر غلط طریقے سے حراست میں لیے جانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اسی کے پیش نظر دہلی پولیس نے اب صحافیوں کے لیے گائیڈ لائن جاری کی ہے۔دہلی پولیس نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے صحافیوں کو احتجاج کی کوریج کے دوران کیا کرنا چاہیے اور کن باتوں سے گریز کرنا چاہیے، اس کی تفصیلات بتائی ہیں۔ تاہم، سوشل میڈیا صارفین کو دہلی پولیس کی یہ پہل پسند نہیں آئی۔ کئی صارفین نے پولیس اہلکاروں کی غائب نیم پلیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خود دہلی پولیس پر سوال اٹھائے۔

دہلی پولیس نے صحافیوں کے لیے جاری کی گائیڈ لائن

دہلی پولیس نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس کے بعد وہ سوشل میڈیا صارفین کے نشانے پر آگئی۔ اس پوسٹ میں صحافیوں کے لیے گائیڈ لائن جاری کرتے ہوئے بتایا گیا کہ احتجاج کی کوریج کے دوران صحافیوں کو دہلی پولیس کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔پوسٹ میں سب سے اہم ہدایت یہ دی گئی کہ احتجاج کی کوریج کے لیے آنے والے تمام صحافی اپنا شناختی کارڈ لازمی ساتھ رکھیں۔ صرف شناختی کارڈ ساتھ رکھنا ہی کافی نہیں ہوگا، بلکہ اسے ہر وقت گلے میں اس طرح پہن کر رکھنا ہوگا کہ دیکھنے سے واضح ہو کہ متعلقہ شخص صحافی ہے اور کسی ادارے سے وابستہ ہے۔

کیا کریں اور کیا نہ کریں، یہ بھی بتایا

دہلی پولیس کی پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صحافیوں کو پولیس اہلکاروں سے مناسب فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے اور ان کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔پوسٹ میں ایک تصویر کے ذریعے احتجاج کی کوریج کا طریقہ بھی سمجھایا گیا ہے۔ اس میں صحافیوں کو ہدایت دی گئی کہ پولیس اہلکاروں کے چہرے کے بالکل قریب مائیک لے کر نہ جائیں۔ دہلی پولیس کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے پولیس اہلکاروں کی نیم پلیٹ نہ ہونے کا معاملہ اٹھانا شروع کردیا۔ صارفین کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو شناخت ظاہر کرنے کی ہدایت دینے سے پہلے پولیس اہلکاروں کو بھی اپنی شناخت واضح طور پر ظاہر کرنی چاہیے۔

صارفین بولے- پہلے خود اپنی نیم پلیٹ لگائیے

دہلی پولیس کی پوسٹ سامنے آتے ہی یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور صارفین نے اس پر مختلف ردعمل دینا شروع کردیا۔ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس کو پہلے خود کو دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس کے کئی اہلکاروں کی نیم پلیٹ غائب رہتی ہے۔ ایک اور صارف نے کہا کہ یہ پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے دہلی پولیس کو تھوڑا سوچنا چاہیے تھا۔ایک اور صارف نے لکھا کہ اپنی شناخت چھپانا غلط ہونے کی علامت ہے۔ صحافی ہو یا پولیس اہلکار، ڈیوٹی کے دوران سبھی کو اپنی شناخت واضح طور پر ظاہر کرنی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Jantar Mantar Protest: انڈیا اتحاد کے احتجاج کے دوران ہنگامہ، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی دھرنے پر بیٹھے

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔…

22 minutes ago

INDIA bloc Protest March Against EC: الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا احتجاجی مارچ، گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ

احتجاج کے دوران انڈیا اتحاد کے لیڈران نے الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ میں گڑبڑی…

29 minutes ago

Adani Power: اڈانی پاور اور ڈروک گرین پاور بھوٹان میں 770 میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور منصوبہ قائم کریں گے

یہ ہائیڈرو پاور منصوبہ وسطی بھوٹان کے جھیمگانگ ضلع میں چامکھرچھو دریا پر قائم کیا…

2 hours ago