لکھنؤ: کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے خلاف مبینہ آمدن سے زائد اثاثہ کے معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اس سلسلے میں دائر عرضی کو قبول کرتے ہوئے جلد سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عرضی میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے اس معاملے کی تفصیلی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ یہ عرضی ایک درخواست گزار ایس وگنیش شیشیر کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ راہل گاندھی اور ان کے اہل خانہ کے پاس ان کی معلوم آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثے موجود ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو ریگولر کیس درج کرنے کی ہدایت دی جائے تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ 6 مئی کو تازہ مقدمات کی لسٹ میں جسٹس راجیش سنگھ چوہان اور جسٹس ظفیر احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ سماعت سے قبل درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اسے فوری بنیادوں پر چیمبر میں سنا جائے۔ عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے اسی دن دوپہر میں چیمبر میں سماعت کی اجازت دے دی۔ عرضی میں سی بی آئی کے علاوہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، محکمہ انکم ٹیکس، وزارت داخلہ اور سیریس فراڈ انویسٹیگیشن آفس (ایس ایف آئی او) کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ان تمام اداروں کی مشترکہ جانچ سے ہی اس معاملے کی مکمل حقیقت سامنے آ سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کی جانب سے عرضی کو قبول کیا جانا ایک اہم مرحلہ ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔ عدالت پہلے اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا سی بی آئی جانچ کے لیے کافی بنیادیں موجود ہیں یا نہیں۔ اگر عدالت اس سلسلے میں احکامات جاری کرتی ہے تو راہل گاندھی کو اپنی آمدنی اور اثاثوں سے متعلق تفصیلات پیش کرنی پڑ سکتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں، اس لیے اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو سیاسی دباؤ کے طور پر بھی دیکھ سکتی ہیں، جبکہ حکمراں جماعت کے حامی اسے شفافیت کی جانب ایک قدم قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب کانگریس کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا باقی ہے، تاہم پارٹی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں اپنے موقف کا بھرپور دفاع کریں گے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں سیاسی مقاصد کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ آمدن سے زائد اثاثوں کے معاملات میں عدالتیں عموماً شواہد اور دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں۔ ایسے میں آنے والی سماعت اس کیس کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اگر عدالت سی بی آئی کو جانچ کا حکم دیتی ہے تو یہ معاملہ مزید سنجیدہ رخ اختیار کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت پیش کیا، کہا-…
10 میٹر ایئر پسٹل مکسڈ ٹیم مقابلے میں سُروچی سنگھ اور کمل جیت نے 484.6…
یمنا ایکسپریس وے پر مسلسل پیش آ رہے حادثات نے بڑھائی تشویش، گریٹر نوئیڈا میں…
انہوں نے PM سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کے ذریعے گھروں کی چھتوں پر سولر…
2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…