انٹرٹینمنٹ

Sarke Chunar Song Row: ’سرکے چُنر‘ گانے پر تنازعہ: اداکارہ نورا فتحی جمعرات کو قومی کمیشن برائے خواتین کے سامنے ہوں گی پیش

نئی دہلی: کنڑ فلم کے ڈی دی ڈیول کے متنازعہ گانے ’سرکے چنر‘ کے معاملے میں اداکارہ نورا فتحی جمعرات کو قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کے سامنے پیش ہوں گی۔ کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے سمن کے بعد نورا فتحی کو جمعرات کی صبح 11:30 بجے حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی تھی، جس پر وہ اپنا موقف پیش کریں گی۔ اس معاملے نے فلمی حلقوں کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر بھی خاصی بحث چھیڑ دی ہے۔ قومی کمیشن برائے خواتین نے اس گانے کے خلاف موصول ہونے والی متعدد شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے سماعت مقرر کی ہے۔ شکایت کنندگان کا مؤقف ہے کہ گانے کے بول، ویڈیو اور پیشکش خواتین کی عزت و وقار کے منافی ہیں۔ کئی خواتین تنظیموں اور سماجی گروپوں نے اسے غیر مناسب اور قابل اعتراض قرار دیا ہے، جس کے بعد کمیشن نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے کی جانچ شروع کی۔

گانے کی ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد صارفین نے اسے فحاشی کو فروغ دینے والا قرار دیا جبکہ کچھ حلقوں نے فنکاروں کی سماجی ذمہ داری پر سوال اٹھائے۔ اس بڑھتی ہوئی تنقید کے پیش نظر کمیشن نے نورا فتحی کو نوٹس جاری کیا تاکہ وہ ذاتی طور پر پیش ہو کر وضاحت دے سکیں۔ ذرائع کے مطابق سماعت کے دوران کمیشن کے اراکین اداکارہ سے گانے کی تیاری، اس کی پیشکش اور اس کے اثرات سے متعلق مختلف سوالات کر سکتے ہیں۔ نورا فتحی کو اپنے مؤقف کے دفاع کا مکمل موقع دیا جائے گا اور کمیشن تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ تفریح کے نام پر خواتین کی تذلیل یا ان کے وقار کو مجروح کرنے والے کسی بھی مواد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس گانے میں نورا فتحی کے ساتھ اداکار سنجے دت بھی مرکزی کردار میں نظر آئے تھے۔ وہ اس معاملے میں 27 اپریل کو پہلے ہی کمیشن کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ سماعت کے دوران سنجے دت نے تحریری طور پر معذرت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا اور نہ ہی وہ خواتین کی توہین کرنا چاہتے تھے۔ قومی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن وجیا کے رہاٹکر نے اس موقع پر فنکاروں کو ان کی سماجی ذمہ داری کا احساس دلایا اور کہا کہ عوامی شخصیات کو اپنے کام کے اثرات کو سمجھنا چاہیے۔ سنجے دت نے سماعت کے دوران یہ اعلان بھی کیا کہ وہ 50 قبائلی لڑکیوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کریں گے، جسے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ تفریحی صنعت میں مواد کے معیار اور اخلاقی حدود پر ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا فن اور آزادی اظہار کے نام پر ہر طرح کے مواد کو پیش کرنا درست ہے یا اس پر کچھ حدود ہونی چاہئیں۔ اب تمام نظریں نورا فتحی کی پیشی اور کمیشن کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں، جو اس تنازعہ کی سمت کا تعین کرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

3 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

4 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

5 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

6 hours ago