ممبئی: گرمیوں کے موسم میں آموں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے درمیان مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کیمیکل کے ذریعے مصنوعی طور پر پکائے جانے والے آموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ ’آپریشن مینگو‘ کے نام سے جاری اس مہم کے دوران ممبئی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں اب تک سیکڑوں پیٹیوں میں بھرے مشتبہ آم ضبط کیے جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق نوی ممبئی کے واشی علاقے میں واقع اے پی ایم سی فروٹ مارکیٹ پر کی گئی کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں ایسے آم برآمد ہوئے، جنہیں کیلشیم کاربائیڈ جیسے ممنوعہ کیمیکلز کے ذریعے پکایا گیا تھا۔ یہ مارکیٹ ممبئی سمیت دیگر بڑے شہروں کو آم کی سپلائی کا ایک اہم مرکز مانی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کارروائی کے اثرات وسیع سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایف ڈی اے کے عہدیداروں نے بتایا کہ انہیں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ بعض تاجر آموں کو جلد پکانے کے لیے خطرناک کیمیکلز کا استعمال کر رہے ہیں۔ چھاپے کے دوران نہ صرف کیلشیم کاربائیڈ بلکہ دیگر مضر صحت کیمیکلز بھی برآمد کیے گئے، جنہیں بوتلوں میں رکھ کر آموں پر چھڑکا جا رہا تھا۔ اس انکشاف کے بعد مارکیٹ میں کھلبلی مچ گئی اور متعدد دکان داروں نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں۔ حکام کے مطابق صرف واشی ہی نہیں بلکہ بھیونڈی، کلیان اور ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے دیگر علاقوں میں بھی مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔ ریاست بھر میں تقریباً 150 ٹیمیں اس مہم میں شامل ہیں، جو منڈیوں، گوداموں اور ریٹیل دکانوں کی نگرانی کر رہی ہیں۔ ضبط کیے گئے آموں کے نمونے لیبارٹری بھیجے جا رہے ہیں تاکہ ان کی مکمل جانچ کی جا سکے۔
ماہرین صحت کے مطابق کیلشیم کاربائیڈ سے نکلنے والی ایسیٹیلین گیس انسانی صحت کے لیے نہایت خطرناک ہوتی ہے۔ اس سے پکائے گئے آموں کے استعمال سے سر درد، چکر آنا، سانس لینے میں دشواری اور معدے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ طویل مدت میں یہ کیمیکل کینسر جیسے سنگین امراض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر آم کو پکنے میں پانچ سے چھ دن لگتے ہیں، لیکن کیمیکل کے ذریعے یہی عمل چند گھنٹوں میں مکمل کر لیا جاتا ہے، جس سے پھل باہر سے تو زرد اور خوبصورت نظر آتا ہے مگر اندر سے پوری طرح پکا نہیں ہوتا۔ ایف ڈی اے کے جوائنٹ کمشنر (فوڈ) مہیش چودھری نے بتایا کہ اس خصوصی مہم کا مقصد عوام کو مضر صحت آموں سے محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں آموں کی مانگ زیادہ ہونے کے باعث بعض تاجر غیر قانونی طریقے اختیار کرتے ہیں تاکہ جلد منافع حاصل کیا جا سکے۔ تاہم محکمہ اس طرح کی سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکام نے عوام کو بھی احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے اور مشورہ دیا ہے کہ آم خریدتے وقت ان کی ظاہری حالت کے ساتھ ساتھ خوشبو اور نرمی پر بھی توجہ دی جائے۔ قدرتی طور پر پکے آم میں خوشبو نمایاں ہوتی ہے جبکہ کیمیکل سے پکائے گئے آم اکثر بے خوشبو ہوتے ہیں۔ ایف ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ یہ مہم آئندہ دنوں میں مزید تیز کی جائے گی اور ریاست بھر میں نگرانی سخت کی جائے گی تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری پھل فراہم کیے جا سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو بازار میں غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کی فروخت کو روکا جا سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…