اتر پردیش میں شمسی توانائی کے شعبے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ’وزیر اعظم سوریہ گھر یوجنا‘ کے تحت ریاست میں اب تک 8.76 لاکھ سے زائد روف ٹاپ سولر پلانٹس نصب کیے جاچکے ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت 2,942 میگاواٹ سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس کے نتیجے میں اتر پردیش کی چھتوں سے روزانہ 1.32 کروڑ یونٹ سے زیادہ صاف اور ماحول دوست بجلی پیدا ہورہی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں ریاست نے شمسی توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں ماڈل پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کا فائدہ صرف ماحولیات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس سے عام خاندانوں کے بجلی کے اخراجات میں کمی، توانائی کے معاملے میں خود کفالت اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اگر اس بجلی کی قدر بازار کی شرح کے مطابق کی جائے تو روزانہ تقریباً 8.5 کروڑ روپے اور سالانہ 3,100 کروڑ روپے سے زائد کی بجلی پیدا ہونے کے برابر ہے۔ اس سے گھریلو صارفین کو بجلی کے بل میں نمایاں بچت ہورہی ہے۔
زمین کی بچت، ماحولیات کو بھی بڑا فائدہ
روف ٹاپ سولر کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے لیے الگ سے بڑے رقبے پر زمین حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر سولر پینل نصب ہونے کی وجہ سے اتر پردیش میں 11,700 ایکڑ سے زائد قیمتی زمین بچائی گئی ہے۔ اس زمین کو مستقبل میں دیگر تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ماحولیاتی اعتبار سے بھی اس منصوبے کا اثر نمایاں ہے۔ اندازہ ہے کہ روف ٹاپ سولر سے ہر سال تقریباً 34 لاکھ ٹن کاربن اخراج میں کمی آئے گی۔ یہ کمی 15 کروڑ سے زائد درختوں کی جانب سے ایک سال میں جذب کیے جانے والے کاربن کے برابر بتائی جارہی ہے۔
ایک لاکھ سے زائد افراد کو روزگار
’پی ایم سوریہ گھر یوجنا‘ نے ریاست کے نوجوانوں کے لیے گرین جابس کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ اتر پردیش میں 8,000 سے زائد یوپی نیڈا (UPNEDA) وینڈرز کے ذریعے سولر سسٹم کی فروخت، ڈیزائننگ، تنصیب اور سروسنگ سے وابستہ کاموں میں ایک لاکھ سے زائد افراد کو براہِ راست روزگار ملا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، دیکھ بھال اور سولر آلات و دیگر سامان کی فراہمی سے متعلق شعبوں میں بھی ہزاروں بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔
مرکز اور ریاست کی سبسڈی سے منصوبے کو رفتار
اس اسکیم کو عام لوگوں تک پہنچانے میں مرکز اور ریاستی حکومت کی مالی معاونت نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 5,722 کروڑ روپے جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے 2,000 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ یوں ’سوریہ گھر یوجنا‘ اتر پردیش میں نہ صرف صاف توانائی کو فروغ دے رہی ہے بلکہ روزگار، زمین کی بچت، ماحولیات کے تحفظ اور گھریلو سطح پر توانائی کے معاملے میں خود کفالت کو بھی مضبوط بنا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کے تحت جموں و کشمیر سے…
ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا بڑا احتجاج، 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اعلان کا سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی نے کیا…
راہل گاندھی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم…
ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرپورٹ آپریٹر کمپنی اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز لمیٹڈ (AAHL) نے…
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ اپوزیشن آکاشوانی بھون کے احاطے میں…