جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی جس میں سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا، قطر نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس واقعے کو “بربریت پر مبنی” اور “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیا گیا ہے۔
قطر حکومت نے حملے کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے، اور حکومت ہند کے ساتھ مکمل یکجہتی کا پیغام دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر ہر قسم کی دہشت گردی کو مسترد کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
قطری وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرے اور اس لعنت کے خلاف مضبوط موقف اپنائے۔
اس سے قبل سعودی عرب نے بھی اس افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اپنے آفیشل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا: “سعودی عرب کی وزارت خارجہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب دہشت گردی کی سبھی کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ وزارت خارجہ نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب وادی میں سیاحت بحال ہو رہی تھی۔ بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح وادی کا رخ کر رہے تھے اور مقامی معیشت کو سہارا ملنے کی امید کی جا رہی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، اور حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں منگل کے روز ہونے والے دہشت گرد حملے کی جس میں کم از کم 26 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، دنیا بھر سے اہم لیڈروں نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اپنے رنج وغم کا اظہار کیا ۔ عالمی رہنماؤں نے اس بربریت کو “غیر انسانی” اور “سفاکانہ” قرار دیتے ہوئے بھارت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا تھا۔
نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیپال بھارت کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ایک نیپالی شہری بھی اس حملے میں جاں بحق ہوا ہے۔ اولی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا، “ہم بھارتی حکام سے رابطے میں ہیں اور متاثرہ خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔”
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے فون پر رابطہ کیا اور حملے کو “سفاکانہ” قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق البانیز نے بھارتی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
فرانس، اٹلی، چین، جاپان اور دیگر ممالک نے بھی پہلگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “وحشیانہ” اور “ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، “ہم دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتے ہیں اور بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
نوبیل انعام یافتہ اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے بھی واقعے پر اظہار افسوس کیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا: “ہم اس وحشیانہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف بنگلہ دیش کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔” پہلگام حملے کے بعد نہ صرف بھارت بلکہ عالمی برادری بھی غمزدہ ہے، اور ایک بار پھر دنیا کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کے پیغام کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ حملے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ متاثرہ افراد کے لواحقین کو امداد پہنچانے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…