ہندوستان اور روس کے درمیان تعلقات اس وقت ایک نئی سمت اختیار کر رہے ہیں، جب روس کے صدر ولادیمیر پوتن آج دہلی پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ نہ صرف 23ویں سالانہ انڈیا-روس سربراہی اجلاس کا حصہ ہے، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسی طویل المدتی شراکت کا اعادہ بھی ہے جس نے برسوں کے سیاسی اتار-چڑھاؤ کے باوجود اپنی مضبوطی برقرار رکھی ہے۔ عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، پابندیوں اور بدلتے اتحادوں کے درمیان یہ ملاقات دوستی کی روایت کو مزید تقویت دیتے ہوئے مستقبل کے تعاون کی راہیں ہموار کرے گی۔
ہندوستان-روس “خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری” دنیا میں منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ پچیس برسوں سے مسلسل ہونے والی سربراہی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور کھلے مذاکرات کی بنیاد کو مضبوط کرتی رہی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدرپوتن نے حالیہ برسوں میں ماسکو، کازان اور تیانجن میں متعدد ملاقاتیں کیں، جب کہ سکیورٹی، خطے کے حالات اور دہشت گردی جیسے حساس معاملات پر خاموش سفارتی رابطے بھی برقرار رہے۔ وزارتی اور قومی سلامتی کے مشیر سطح کی بات چیت نے بھی اس شراکت داری کو مزید فعال رکھا ہے۔
اقتصادی میدان میں باہمی تعاون تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔ دو طرفہ تجارت مالی سال 2025-2024 میں تقریباً 68.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس میں بڑی شراکت ہندوستان کی توانائی درآمدات کی ہے۔ اگرچہ ہندوستان کی برآمدات ابھی پانچ ارب ڈالر سے کم ہیں ،لیکن ادویات، ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات اور میری ٹائم ایکسپورٹس خصوصاً جھینگے کے شعبے میں اضافہ ممکن ہے۔ دونوں ممالک کا ہدف یہ ہے کہ توانائی پر منحصر تجارت کو متنوع صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری پر مبنی مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔ ہندوستان کے لیے دھاتوں، ریئر ارتھ، کوکنگ کول اور کھادوں کے شعبے میں روس کے ساتھ تعاون بے حد اہم ہے۔
کنیکٹوٹی بھی اس شراکت کی رفتار بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔ چنئی-ولادی ووستوک میری ٹائم کوریڈور اور نادرن سی روٹ مستقبل میں سفری اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ روس کے مشرق بعید میں مشترکہ سرمایہ کاری اور یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کی تکمیل دونوں ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ اس کے علاوہ ہندوستانی ماہرینِ کار کے محفوظ اور منظم ہجرت کے حوالے سے نیا فریم ورک بھی آخری مراحل میں ہے۔
دفاعی تعاون، جو برسوں سے ان تعلقات کا مرکزی ستون رہا ہے، اب بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ ہندوستان نے دفاعی خریداری میں تنوع پیدا کیا ہے، لیکن Su-30MKI، T-90 ٹینک اور S-400 جیسے روسی پلیٹ فارمز اب بھی ہندوستانی دفاع کا اہم حصہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون صرف خرید و فروخت تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ تحقیق اور تیاری، خاص طور پر براہموس میزائل، اس تعلق کی مضبوط مثال ہے۔ “میک ان انڈیا” کے تحت دفاعی مقامی کاری کا ہدف روس کی طویل المدتی مارکیٹ کے مفاد سے ہم آہنگ ہے۔
ثقافتی و تعلیمی تعلقات بھی اس شراکت کو مضبوط کرتے ہیں۔ اس وقت 20 ہزار سے زائد بھارتی طلبہ روس میں زیرتعلیم ہیں۔ روس میں یوگا، بھارتی فلمیں، موسیقی اور رقص بے حد مقبول ہیں، جب کہ سیاحت اور ثقافتی تبادلے دونوں عوام کے درمیان خیرسگالی کو فروغ دے رہے ہیں۔
بدلتی عالمی سیاست میں ہندوستان کی کثیر جہتی خارجہ پالیسی اسے امریکہ، یورپ اور ایشیا کے ساتھ متنوع تعلقات برقرار رکھنے کی آزادی دیتی ہے۔ اس کے باوجود روس دفاع، توانائی، جوہری تعاون اور خلائی سائنس جیسے اہم شعبوں میں ایک ناگزیر اسٹریٹجک شریک کے طور پر موجود ہے۔
صدرپوتن کا یہ دورہ ایک تبدیل ہوتی ہوئی ج،یو پولیٹیکل دنیا میں ہندوستان-روس تعلقات کو نئی مضبوطی دینے اور آئندہ دہائی کے لیے تعاون کے نئے در وا کرنے کی اہم کوشش ہے۔ یہ شراکت ثابت کرتی ہے کہ بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری عملی حقیقت ہےاور اس کا بہترین مظہر روس کے ساتھ اس کے دیرپا تعلقات ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ صبح 11 بجے ہبلی میں کے ایل ای جے جی ایم ایم میڈیکل…
سابق جج نے کہا، ’’ایک شخص کو بظاہر سیاسی آزادی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن…
موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…
پاکستانی وفد کی مداخلت کے جواب میں آجاکیہ نے کہا کہ ان کی جانب سے…
امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…
قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…