قومی

تعلیم پرقومی پیداوارکا 6 فیصد خرچ ناگزیر، تجارت کاری ومرکزیت تعلیمی نظام کے لئے خطرہ، مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین انجینئرمحمد سلیم نے اٹھایا سوال

نئی دہلی: مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین انجینئرمحمد سلیم نے میڈیا کوجاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے اندرسرکاری تعلیم سے بتدریج ریاستی دستبرداری، تعلیمی اداروں کی بڑھتی ہوئی تجارت کاری اور تعلیمی نظام میں مرکزیت کے رجحانات مستقبل کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیم پرمجموعی قومی پیداوارکا کم ازکم 6 فیصد تک خرچ کیا جائے اورعوامی تعلیمی نظام کومضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے یہ باتیں نِیتی آیوگ کے شعبۂ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ 200 صفحات پرمشتمل رپورٹ ’’ہندوستان میں اسکولی تعلیمی نظام: زمانی تجزیہ اورمعیاری بہتری کے لیے پالیسی روڈ میپ‘‘ پرمرکزی تعلیمی بورڈ کے زیراہتمام منعقدہ قومی آن لائن مذاکرے کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ مذاکرے میں ملک بھر کے ماہرینِ تعلیم، تعلیمی اداروں کے ذمہ داران اورمحققین نے شرکت کی۔

انجینئرمحمد سلیم نے مزید کہا کہ موجودہ پالیسی کے رجحانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ریاست اپنی تعلیمی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے اورتعلیم کوبتدریج نجی اورکارپوریٹ شعبوں کے حوالے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ تعلیم ایک بنیادی عوامی حق ہے، اسے منافع بخش کاروبارمیں تبدیل ہونے سے بچانا ضروری ہے۔ انہوں نے زوردے کرکہا کہ اعلیٰ تعلیم، تحقیق اورڈاکٹریٹ کے شعبوں کومناسب مالی وسائل فراہم کیے جائیں، تعلیمی اداروں میں کارپوریٹ مداخلت کو محدود، نصاب میں فرقہ وارانہ رجحانات کی حوصلہ شکنی اورآئینی اقداریعنی انصاف، مساوات، آزادی اور اخوت کو فروغ دیا جائے۔

مذاکرے میں مرکزی تعلیمی بورڈ کے کوآرڈی نیٹراورمحقق ظفرالحق نے نِیتی آیوگ کے اعداد وشمارکا تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں 14.71 لاکھ اسکول، 24.69 کروڑ طلبہ اورایک کروڑ اساتذہ موجود ہونے کے باوجود بنیادی خواندگی اورحسابی مہارت تشویش ناک حد تک کمزورہے۔ جماعت سوم کے 27 فیصد، جماعت پنجم کے تقریباً 50 فیصد اور جماعت ہفتم کے 71 فیصد طلبہ دوسری جماعت کے درجے کا سادہ متن پڑھنے سے قاصرہیں، جبکہ جماعت سوم کے 35 فیصد، جماعت پنجم کے 30 فیصد اورجماعت ہشتم کے 45 فیصد طلبہ سادہ تقسیم کے سوالات حل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں 1.19 لاکھ اسکول بجلی سے محروم ہیں، 14 ہزاراسکولوں میں پانی کی سہولت موجود نہیں، تقریباً 98 ہزار اسکولوں میں طالبات کے لیے علیحدہ بیت الخلا نہیں ہیں، ایک لاکھ سے زائد اسکول صرف ایک استاد کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جبکہ تقریباً 8 ہزاراسکول ایسے ہیں جہاں کوئی طالب علم زیر تعلیم نہیں۔
اس موقع پرمرکزی تعلیمی بورڈ کے سکریٹری سید تنویراحمد نے کہا کہ ’’نِیتی آیوگ کی رپورٹ مسائل کی درست نشاندہی توکرتی ہے، لیکن ان کے حل کے لیے کوئی واضح لائحۂ عمل پیش نہیں کرتی۔ انہوں نے اس بات پربھی تشویش ظاہرکی کہ اساتذہ کوسالانہ اوسطاً 28 دن غیرتعلیمی سرکاری کاموں میں مصروف رکھا جاتا ہے، جس سے تدریسی عمل متاثرہوتا ہے۔ مذاکرے کے اختتام پرانجینئرمحمد سلیم نے اعلان کیا کہ مرکزی تعلیمی بورڈ مختلف سماجی اورتعلیمی تنظیموں کے تعاون سے ایک جامع پالیسی مسودہ تیارکرے گا، جسے مرکزی وزارتِ تعلیم اورریاستی محکمہ ہائے تعلیم کوپیش کیا جائے گا تاکہ تعلیمی نظام میں ضروری اصلاحات کویقینی بنایا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Unctad Warning: کیا مغربی ایشیا کی جنگ کی تپش سے جھلسے گی دنیا؟ اقوام متحدہ نے توانائی بحران پر دی بڑی وارننگ

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت کی…

18 minutes ago

Manipur Violence: منی پور میں پھر بھڑکا تشدد، 9 افراد کی موت سے کشیدگی میں اضافہ، وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ کی امن کی اپیل

بگڑتے حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے شہریوں سے امن برقرار…

34 minutes ago

Congress Controversy: کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہنگامہ، اجے رائے اور ممتا چودھری کے حامیوں میں تصادم، جوتے لے کر کیا احتجاج

لکھنؤ میں کانگریس کے دفتر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب پارٹی لیڈروں اور…

48 minutes ago