قومی

Pakistan Role in US-Iran Deal: ’یہ بھارت کے لیے…‘ امریکہ-ایران معاہدے پر کانگریس کا پہلا ردعمل، حکومت پر طنز کرتے ہوئے کیا کہا؟

نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے بعد بھارت کی داخلی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس نے جمعرات (18 جون 2026) کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر اب تک کا سب سے سخت اور جارحانہ حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس پورے امن معاہدے میں پاکستان کی ثالثی اور بڑھتا ہوا کردار نریندر مودی حکومت کے لیے ایک سنگین سفارتی دھچکا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے براہِ راست وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلسل خوش کرنے کی مودی کی پالیسی نہ صرف شرمناک ہے بلکہ قومی مفادات کے بھی خلاف ہے۔

مودی حکومت پر کیا طنز کسا؟

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک تفصیلی اور سخت لہجے پر مبنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا 14 نکاتی “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (MOU) اب باضابطہ طور پر جاری ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا نام “اسلام آباد” رکھا جانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں پاکستان کا اثر و رسوخ دوبارہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ پاکستان ہے جسے 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے عالمی سطح پر تنہا کر دیا تھا، لیکن آج مودی حکومت کی کمزور سفارت کاری کے باعث وہ دوبارہ علاقائی سلامتی کے معاملات کے مرکز میں آ گیا ہے۔

نیتن یاہو کا بھی ذکر

جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی شکست ہے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو بین الاقوامی سطح پر تنہا پڑ چکے ہیں اور ان کے قریبی اتحادی سمجھے جانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عوامی طور پر ان سے ناراضی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ اس کے باوجود وزیر اعظم مودی لبنان، غزہ اور مغربی کنارے کے معاملات میں نیتن یاہو کی پالیسیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ ان کے بقول اسرائیل کے تئیں یہ “اندھی حمایت” بھارت کو سفارتی طور پر نقصان پہنچا رہی ہے۔

’’اگلے 60 دن بھارت کے لیے اہم‘‘

جے رام رمیش نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے لیے بھی ایک سبق ہے، کیونکہ اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، مگر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

انہوں نے بدھ کی رات ہونے والی ٹرمپ-مودی دوطرفہ ملاقات کے بعد وزارتِ خارجہ کے بیان کو بھی “خوشامدانہ سفارت کاری کی تازہ مثال” قرار دیا۔ ساتھ ہی خبردار کیا کہ مغربی ایشیا میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کے بھارت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور آنے والے 60 دن اس پورے سفارتی منظرنامے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Nawada School Viral Video: نوادہ میں طالبات نے ہیڈ ماسٹر پر لگائے سنگین الزامات، چھیڑ چھاڑ اور پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ نے الزام لگایا کہ جمعہ کو وہ امتحان کے لیے…

29 minutes ago

Trump Returns Unexpectedly to White House: اچانک وائٹ ہاؤس واپس لوٹے ٹرمپ، خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کا الرٹ، ایڈوائزری جاری

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب…

36 minutes ago

Journalist Payal Mehta passes away in Mumbai at 46: سینئر صحافی پائل مہتا کا انتقال، وزیر اعظم مودی،امت شاہ سمیت کئی لیڈروں نے تعزیت کا کیا اظہار

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پائل مہتا کے انتقال پر…

1 hour ago

Woman arrested in Bajhang: نیپال میں خاتون گرفتار، کتے کو پل سے ندیمیں پھینکنے کی ویڈیو وائرل

وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…

2 hours ago