قومی

Congress MP Priyanka Gandhi Vadra: کالے لباس میں پارلیمنٹ پہنچا اپوزیشن، نیٹ پیپر لیک معاملے پر حکومت کے خلاف احتجاج، پرینکا گاندھی بولیں- طلبہ اپنے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں

نئی دہلی : نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج مزید تیز کر دیا ہے۔ راہل گاندھی کی قیادت میں گزشتہ روز وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کرنے کے بعد بدھ کے روز اپوزیشن کے کئی ارکان پارلیمنٹ کالے لباس پہن کر ایوان پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ اور اپوزیشن اراکین کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ بدسلوکی کے خلاف یہ علامتی احتجاج کیا جا رہا ہے۔اس احتجاج میں کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اراکین پارلیمنٹ شریک ہوئے۔ کالے لباس میں پارلیمنٹ پہنچنے والی کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا، یہ اہم نہیں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ طلبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، کیا وہ درست تھا؟ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مطالبات جائز ہیں اور وہ اپنے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ تقریباً 1.4 لاکھ کروڑ روپے ہے، لیکن حکومت بڑے صنعت کاروں کے لاکھوں کروڑ روپے کے قرض معاف کر دیتی ہے، جبکہ طلبہ کو انصاف نہیں ملتا۔ ان کے مطابق بار بار امتحانات کے پرچے لیک ہو رہے ہیں، اس لیے نوجوان تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج غیر جمہوری نہیں بلکہ طلبہ اور اپوزیشن کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، وہ جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بچے صرف اپنا حق مانگ رہے ہیں، ہر امتحان کا پرچہ لیک ہو رہا ہے، کسانوں، غریبوں اور طلبہ کو کچھ نہیں مل رہا، صرف ایک ٹوٹا ہوا نظام باقی رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہ ایوان میں بحث کراتی ہے اور نہ ہی قائد حزب اختلاف کو بولنے کا موقع دیتی ہے، جس سے جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ قواعد کے مطابق نہیں چل رہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طلبہ کو ڈرایا جا رہا ہے اور اپوزیشن کے سینئر رہنماؤں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ کانگریس دبنے والی نہیں اور عوام اس جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے۔ سریش نے کہا کہ کالے لباس پہننے کا فیصلہ گزشتہ روز مکر دوار پر پولیس کی مبینہ سخت کارروائی کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ احتجاج سکیورٹی اہلکاروں کی من مانی کے خلاف اختلاف رائے کا اظہار ہے۔آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ سنجے یادو نے بھی احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے بار بار ہونے والے پیپر لیک، بڑھتی بے روزگاری اور نوجوانوں کے خلاف سخت کارروائی پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ ادھر کانگریس کے سینئر رہنما کے سی وینوگوپال نے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے پاس عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچا اور انہیں طلبہ کے مفاد میں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے کہا کہ راہل گاندھی کی تینوں مطالبات کی مکمل حمایت کی جائے گی، جبکہ پارٹی رہنما پون کھیڑا نے واضح کیا کہ تمام کانگریسی اراکین پارلیمنٹ نے کالے لباس پہن کر حکومت کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا ہے اور یہ مظاہرہ طلبہ کے ساتھ کیے گئے سلوک اور وزیر تعلیم کے رویے کے خلاف ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

3 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

3 hours ago