نئی دہلی: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل فوجی حملوں نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں اہم مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے۔ حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی خودمختار ملک کی قیادت کو نشانہ بنا کر قتل کرنا اور بڑی تعداد میں بے گناہ شہریوں کی جان لینا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے نام پر انسانی جانوں کا ضیاع عالمی اصولوں اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے اور اس کی سخت مذمت ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ تنازعہ کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، جو انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ ان کے مطابق دنیا کو مزید جنگوں کی نہیں بلکہ سفارتی حل اور امن مذاکرات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی کے مشہور قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”آنکھ کے بدلے آنکھ پوری دنیا کو اندھا بنا دے گی“، اس لیے عالمی قیادت کو تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
کانگریس لیڈر نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کی فوری اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی متاثرہ ممالک میں موجود بھارتیوں کے انخلا کے لیے تمام ممکنہ سفارتی اور انتظامی اقدامات کریں گے۔ ادھر خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی فضائی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ متعدد ممالک نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر اپنا فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔ قومی ایئرلائن ایئر انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ یکم مارچ تک مشرق وسطیٰ جانے والی کئی پروازیں منسوخ رہیں گی، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
شہری ہوا بازی کے نگران ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے بھی ایئرلائنز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کم از کم 11 حساس ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اس صورتحال کے باعث دنیا بھر کے کئی ہوائی اڈوں پر مسافروں کو طویل انتظار اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں جلد کمی نہ آئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سفر پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں، جبکہ خطے میں انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب ممکنہ سفارتی حل پر مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…