بین الاقوامی

Iran Islamic Revolution India Connection: یہ بھی ایک تاریخی حقیقت! ایران کے اسلامی انقلاب کا بیج بھارت میں بویا گیا تھا، جانیے علی خامنہ ای کا بارہ بنکی کنکشن

اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی کا ایک چھوٹا سا گاؤں کِنٹور ہے۔ بظاہر یہ کسی عام بھارتی گاؤں کی طرح دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی گلیوں اور مٹی میں ایک ایسی زندہ تاریخ دفن ہے جس نے سات سمندر پار ایک پورے ملک کی تقدیر بدل دی۔ یہ کہانی اُس روحانی اور فکری بیج کی ہے جو کِنٹور کی سرزمین سے پھوٹا اور ایران کی صدیوں پرانی بادشاہت کو اکھاڑ پھینکنے والے’اسلامی انقلاب‘ کی بنیاد بنا۔

ایک مسافر کی علمی ہجرت

اس عظیم داستان کی شروعات انیسویں صدی کی پہلی نصف میں ہوتی ہے۔ کِنٹور کے ایک سادہ مگر معزز دینی خاندان میں سید احمد موسوی کی پیدائش ہوئی۔ اگرچہ ان کے آباؤ اجداد صدیوں پہلے ایران سے ہندوستان آ بسے تھے، مگر وقت کے ساتھ وہ کِنٹور کی فضا اور تہذیب میں پوری طرح رچ بس گئے تھے۔1830 کی دہائی میں، جب ہندوستان پر برطانوی حکومت کی گرفت مضبوط ہو رہی تھی، نوجوان سید احمد مذہبی تعلیم اور زیارت کے جذبے کے ساتھ عراق کے مقدس شہر نجف روانہ ہوئے۔ یہ سفر محض ہجرت نہیں بلکہ علم اور فکر کی تلاش کا آغاز تھا۔

’ہندی‘ شناخت کے ساتھ نئی منزل

نجف کے علمی ماحول میں سید احمد موسوی نے نہ صرف دینی علوم حاصل کیے بلکہ انہیں ایک نئی فکری سمت بھی حاصل ہوئی۔ بعد ازاں وہ ایران کے شہر خمین پہنچے، جہاں انہوں نے مستقل سکونت اختیار کی اور نئی زندگی کا آغاز کیا۔اس کے باوجود انہوں نے اپنی بھارتی شناخت کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ انہوں نے فخر کے ساتھ اپنے نام کے ساتھ ’ہندی‘ کا لاحقہ لگایا اور تاریخ میں وہ سید احمد موسوی ہندی کے نام سے معروف ہوئے۔ 1869 میں ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی ہندوستانی شناخت اور فکری وراثت ان کی نسلوں میں زندہ رہی۔

روح اللہ خمینی: انقلاب کا چہرہ

سید احمد موسوی ہندی کی اسی وراثت کے سب سے نمایاں وارث ان کے پوتے آیت اللہ روح اللہ خمینی بنے۔ 1902 میں خمین میں پیدا ہونے والے روح اللہ خمینی نے اپنے دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فقہ اور اسلامی علوم میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔تاہم ان کی فکر صرف مذہبی تعلیم تک محدود نہیں رہی۔ 1960 کی دہائی میں جب ایران کے شاہ محمد رضا شاہ پہلوی کی امریکہ نواز پالیسیاں عروج پر تھیں، تو خمینی نے حکومت کے خلاف شدید مزاحمت شروع کی۔بالآخر 1979 میں ان کی قیادت میں آنے والے انقلاب نے صدیوں پرانی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا اور ایران ایک اسلامی جمہوریہ میں تبدیل ہو گیا۔ دنیا حیران رہ گئی کہ ہندوستانی نژاد خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک عالم جدید تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی و مذہبی انقلابی تحریک کا رہنما بن گیا۔

خامنہ ای اور ’استاد‘ کا مضبوط رشتہ

ایران کی اسی نظریاتی میراث کو آگے بڑھانے والے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای ہیں۔ 1939 میں مشہد میں پیدا ہونے والے خامنہ ای، روح اللہ خمینی کے قریبی شاگردوں اور قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔اگرچہ خامنہ ای کا بھارت سے براہِ راست خاندانی تعلق نہیں تھا، مگر ان کے روحانی اور سیاسی استاد خمینی کی جڑیں مکمل طور پر بارہ بنکی کے کِنٹور گاؤں سے وابستہ تھیں۔ 1989 میں خمینی کے انتقال کے بعد جب خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر بنے تو انہوں نے اسی سخت نظریاتی طرزِ فکر کو جاری رکھا جس کی بنیاد کِنٹور کی سرزمین سے جڑی سمجھی جاتی ہے۔

کِنٹور: ایران کی تاریخ کا خاموش گواہ

آج تہران میں سپریم لیڈر کے مرکزِ اقتدار سے ہونے والے فیصلوں کی گونج چاہے واشنگٹن اور اسرائیل تک کیوں نہ سنائی دیتی ہو، مگر اس کی فکری جڑیں ایک بھارتی گاؤں تک پہنچتی دکھائی دیتی ہیں۔کِنٹور محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ اس روحانی اور فکری سفر کی علامت ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ علم اور نظریات کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ بارہ بنکی کی مٹی سے اٹھنے والا ایک خیال تہران کے اقتدار تک پہنچ کر عالمی سیاست کی سمت تبدیل کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

1 hour ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

1 hour ago