قومی

uproar over display of weapons in Ram Navami processions: مغربی بنگال میں رام نومی کے جلوسوں میں ہتھیاروں کی نمائش پر سیاسی ہلچل، بی جے پی اور ٹی ایم سی میں زبانی جنگ جاری

سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان رام نومی کی تقریبات کو لے کر مغربی بنگال میں سیاسی تناؤ جاری ہے۔ کئی علاقوں میں ہتھیاروں کی کھلے عام نمائش نے حالات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے اور حکمراں ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان زبانی جنگ چھڑ گئی ہے۔ صرف کولکاتا میں ہی 70 سے زیادہ ریلیوں کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جس میں تقریباً 4,000 سے 5,000 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ صورت حال پر نظر رکھنے کے لیے ڈرونز اور سی سی ٹی وی نگرانی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔ حساس علاقوں جیسے اینٹلی، کوسی پور، کھدر پور اور چت پور میں ہنگامی ٹیمیں بھی تعینات تھیں۔

اس دوران رام نومی کے کئی جلوس میں ہتھیاروں کی نمائش کی اطلاع ہے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق مالدہ میں ایک بڑا جلوس رام کرشن پلی میدان سے نکالا گیا، جس میں شرکا کھلے عام تلواریں اور دیگر ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے۔ اسی طرح کے مناظر ہاوڑہ کے سنکریل سے رپورٹ ہوئے، جہاں منتظمین کے پاس مبینہ طور پر ہتھیار لے جانے کی سرکاری اجازت نہیں تھی۔ پولیس ذرائع نے تصدیق کی کہ شرائط کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش نے کیا ہتھیاروں کا دفاع

دریں اثنا بی جے پی کے سینئر لیڈر دلیپ گھوش نے تقریبات کے دوران مذہبی جلوسوں میں ہتھیاروں کی موجودگی کا دفاع کرتے ہوئے تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ انھوں نے کہا ’’اگر کوئی ہتھیار لے جائے تو کیا حرج ہے؟‘‘ وہیں بی جے پی کے ریاستی صدر سکانتا مجمدار نے کہا ’’رام نومی کے موقع پر لاکھوں ہندوؤں کے سڑکوں پر آنے کی توقع ہے۔ میں ریاستی حکومت سے اقدامات کرنے کی درخواست کروں گا تاکہ اسے پرامن طریقے سے منایا جا سکے۔ تقریبات کو زبردستی روکنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ رام نومی کی تقریبات منعقد کی جائیں گی، چاہے آپ کچھ بھی کریں۔‘‘ بی جے پی لیڈر شوبیندو ادھیکار نے اپنے اسمبلی حلقہ نندی گرام میں ’’رام مندر‘‘ کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد کہا ’’ٹی ایم سی ہندوؤں سے خوف زدہ ہے اور اسی وجہ سے وہ ریاست کے مختلف حصوں میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

بی جے پی مذہبی موقع کو سیاسی موقع بنا رہی ہے: ٹی ایم سی

دریں اثنا ترنمول کانگریس نے بی جے پی پر مذہبی موقع کو فرقہ وارانہ بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ٹیم ایم سی کے ترجمان کنال گھوش نے کہا ’’بی جے پی رام نومی کو ایک سیاسی تقریب میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ مذہب پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ بنگال اسے برداشت نہیں کرے گا۔‘‘ واضح رہے کہ اس سال کی رام نومی کی تقریبات کو ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کے حالیہ واقعات اور 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

2 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

2 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

3 hours ago