ایران، اسرائیل اورامریکہ کے درمیان جنگ کی وجہ سے گیس اورتیل کے بحران کے بارے میں حکومت حساس ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے لوک سبھا میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے پرحساس ہے، محتاط ہے اورہرممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیارہے۔ ہندوستان کوآبنائے ہرمزکے ذریعہ بڑی مقدارمیں ضروری اشیاء بشمول خام تیل، گیس اورکھاد ملتی ہے۔ جنگ کے بعد سے، آبنائے کے ذریعے جہازرانی تیزی سے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود ہماری حکومت نے اس بات کویقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ پٹرول، ڈیزل اورگیس کی سپلائی خاصی متاثر نہ ہو۔ یہ ہماری توجہ کا مرکز رہا ہے۔
انہوں نے ایران اورامریکہ-اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان واقع ”تشویشناک“ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحران صرف اس علاقے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا پراثر ڈال رہا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا، وسط ایشیا میں بحران نے دنیا کی اکنامی اور لوگوں پربرا اثرڈالا ہے۔“ وزیراعظم مودی نے کہا کہ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، تین لاکھ 75 ہزارسے زیادہ ہندوستانی محفوظ وطن لوٹ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہرمزاسٹریٹ کے راستے بڑی مقدارمیں کچا تیل، گیس، فرٹیلائزراورکئی ضروری چیزیں ہندوستان آتی ہیں۔ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، ہرمز اسٹریٹ سے جہازوں کا آنا جانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود ہماری حکومت نے یہ پکّا کرنے کی کوشش کی ہے کہ پٹرول، ڈیژل اورگیس کی سپلائی پرزیادہ اثرنہ پڑے۔.
خلیج میں رہنے والے ہندوستانیوں شہریوں سے متعلق تشویش
وزیراعظم مودی نے خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کی حفاظت کے بارے میں بھی بات کی۔ پی ایم مودی نے کہا، “ایک کروڑ ہندوستانی خلیج میں رہتے ہیں۔” انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا، “حکومت خلیجی ممالک میں رہنے والے ہر ہندوستانی کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔” وزیراعظم مودی نے یہ بھی کہا کہ وہ خطے کے لیڈروں سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خلیجی ممالک کے لیڈروں سے بات کی ہے اورانہوں نے ہندوستانیوں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ ممالک میں ہمارے مشن مسلسل ہندوستانیوں کی مدد کررہے ہیں۔ چاہے وہاں کام کرنے والے ہندوستانی ہوں یا سیاح آنے والے ہوں، ہرایک کی ہرممکن مدد کی جارہی ہے۔ ہمارے مشن باقاعدگی سے ایڈوائزری جاری کررہے ہیں۔ ہندوستان اوردیگرمتاثرہ ممالک میں 24/7 آؤٹ ریچ روم اورایمرجنسی ہیلپ لائنزقائم کی گئی ہیں۔ ان کے ذریعہ تمام متاثرہ افراد کوتازہ ترین معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ہندوستان اورعالمی معیشت پر اثرات
صورتحال کی سنگینی پرزور دیتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ جنگ نے ہندوستان کے لیے نئے چیلنجزپیدا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، “مغربی ایشیا میں جنگ نے ہندوستان کے لیے ایسے چیلنجز پیدا کردیئے ہیں، جوپہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ملک بیک وقت متعدد مسائل سے نمٹ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “مغربی ایشیا میں جنگ کے درمیان، ہندوستان کواقتصادی اورسیکورٹی چیلنجوں کا سامنا ہے۔”
بھارت ایکسپریس اردو-
ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت…
وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…
وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے…
ممتا بنرجی نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، انہوں نے پہلے ہی…
نٹھاری قتل معاملے سے متعلق آخری کیس میں بھی سریندر کولی کو سپریم کورٹ سے…