نئی دہلی :وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پانچ ممالک کے دورے کے تیسرے مرحلے میں آج آٹھ برس بعد سویڈن پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، نئی ٹیکنالوجی اور اختراعات سمیت کئی اہم شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کریں گے۔ وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم مودی 17 اور 18 مئی کو سویڈن کے دورے پر رہیں گے۔ یہ دورہ سویڈن کے وزیر اعظم اُلف کرسٹرسن کی دعوت پر انجام دیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے اس دورے کو بھارت اور یورپی یونین کے تعلقات کے تناظر میں بھی کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق سویڈن یورپی یونین کے ایک اہم رکن کے طور پر بھارت کے لیے اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے، اور اس دورے کے ذریعے یورپ کے ساتھ اقتصادی اور تکنیکی شراکت داری کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سے قبل وزیر اعظم مودی 2018 میں پہلے بھارت-نورڈک سمٹ میں شرکت کے لیے سویڈن گئے تھے۔
توقع ہے کہ وزیر اعظم مودی اور سویڈن کے وزیر اعظم اُلف کرسٹرسن کے درمیان ہونے والی دو طرفہ ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے پر خاص توجہ دی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنما گرین ٹرانزیشن، اے آئی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، اسٹارٹ اپس، مضبوط سپلائی چین، دفاع، خلائی تحقیق، ماحولیاتی تبدیلی اور عوامی روابط جیسے اہم شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کریں گے۔اس دورے کے دوران وزیر اعظم مودی، سویڈن کے وزیر اعظم اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کے ساتھ مل کر یورپی صنعتوں کے بڑے پلیٹ فارم “یورپین راؤنڈ ٹیبل فار انڈسٹری” سے بھی خطاب کر سکتے ہیں۔ اس فورم میں یورپ کی کئی بڑی کمپنیوں اور صنعت کاروں کی شرکت متوقع ہے۔بھارت اور یورپی یونین کے درمیان حالیہ آزاد تجارتی معاہدے کے بعد اس دورے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ نئی دہلی یورپی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے اقتصادی اثرات پر بھی اس دورے کے دوران تبادلہ خیال ہونے کی امید ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں بھارت اور سویڈن کے درمیان دو طرفہ تجارت 7.75 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جب کہ 2000 سے 2025 کے درمیان سویڈن نے بھارت میں تقریباً 2.825 بلین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی ہے۔بھارت سویڈن کے مضبوط انوویشن اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ سویڈن کو یورپ کے سب سے کامیاب اسٹارٹ اپ حب میں شمار کیا جاتا ہے اور فی کس یونیکورن کمپنیوں کے معاملے میں یہ یورپ میں سرفہرست ہے۔ ماہرین کے مطابق سویڈن کا تحقیق، ٹیکنالوجی اور کاروباری ماحول بھارت کے تیزی سے ابھرتے ہوئے ٹیک سیکٹر کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پی ایم مودی نے کہا، ’’میں آپ تمام نوجوان ساتھیوں اور آپ کے اہل خانہ…
امتحان کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کے بعد طالب علم کی موت ہوگئی۔…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ماحولیات سے متعلق ہر شعبے…
این سی پی آئی کی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے…
20ویں روزگار میلے میں منتخب کیے گئے 51 ہزار سے زائد نوجوان بھارت سرکار کی…
امت شاہ صبح 11 بجے ہبلی میں کے ایل ای جے جی ایم ایم میڈیکل…