قومی

Sanjay Raut targets PM’s speech: ’’پی ایم مودی کو بولنا چاہئے ’خون اور کرکٹ‘ ایک ساتھ نہیں چلے گا…‘‘، وزیر اعظم کی تقریر پر سنجے راوت کا نشانہ

ممبئی: شیوسینا (یو بی ٹی) کے لیڈر سنجے راوت نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی یوم آزادی کی تقریر کو نشانہ بنایا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہیں گے لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ ایشیا کپ میں بھارت اور پاکستان کا میچ کھیلنے کی تجویز ہے۔

خون اور کرکٹ ایک ساتھ نہیں چلے گا: راوت

سنجے راوت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ خون اور پانی کے بجائے وزیر اعظم کو یہ بولنا چاہئے کہ خون اور کرکٹ ایک ساتھ نہیں چلے گا۔ وزیر اعظم کے سامنے ہی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بیٹھے تھے اور ان کا بیٹا آئی سی سی چیئرمین ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم کو امت شاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا چاہئے کہ خون اور کرکٹ ایک ساتھ نہیں چلے گا۔ لیکن افسوس، وزیراعظم نے اپنی تقریر میں ایسا نہیں کہا۔

’’ایسی صورت میں کرکٹ ایک ساتھ نہیں چل سکتا‘‘

شیوسینا (یو بی ٹی) لیڈر نے کہا کہ پانی تو کوئی بات نہیں ہے۔ اسے تو ہم دیکھ لیں گے۔ لیکن، سب سے پہلے، وزیر اعظم کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایسی صورتحال میں کرکٹ بھی ایک ساتھ نہیں چل سکتا ہے۔ یہ بات بھی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی اپنے بیٹے کو کہنا چاہئے۔

 اب اس حکومت کے 12 بج چکے ہیں: راوت

سنجے راوت نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 12ویں بار لال قلعہ کی فصیل سے ملک سے خطاب کیا ہے، لیکن اس بار ان کی حکومت جا رہی ہے۔ اب انہیں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔ اب اس حکومت کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ 12ویں بار جس طرح سے وزیر اعظم نے لال قلعہ کی فصیل سے ملک سے خطاب کیا ہے اس سے ایک بات ظاہر ہو چکی ہے کہ اب اس حکومت کے 12 بج چکے ہیں۔

’’مرکزی حکومت کی لاپرواہی کی وجہ ڈیموگرافی بدلی‘‘

اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اپنے خطاب میں دراندازوں کے ذکر پر انہوں نے کہا کہ اس بات سے بالکل انکار نہیں کیا جا سکتا کہ درانداز اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ لیکن، اگر آج ہمارے ملک میں باہر کے لوگ اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں، تو یقیناً اس کے لیے مرکزی حکومت ذمہ دار ہے۔ مرکزی حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے آج کی تاریخ میں ملک کی ڈیموگرافی بدلی ہے۔ یہ لوگ مہاتما گاندھی اور نہرو پر ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر آپ لوگ اتنے سالوں سے اقتدار میں ہیں، آپ نے اب تک کیا کیا؟ اگر مرکزی حکومت نے گزشتہ دنوں ’آپریشن سندور‘ کیا تھا تو وہ بھی آدھا ادھورا کیا تھا۔

’’حکومت سے کسی بھی قسم کی امید لگانا ٹھیک نہیں‘‘

سنجے راوت نے کہا کہ حکومت نے لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کی بات کی ہے۔ لیکن ہمیں اچھی طرح سے پتہ ہے کہ اس حکومت نے اب تک کتنے نوجوانوں کو نوکریاں دی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس حکومت سے کسی بھی قسم کی امید لگانا ٹھیک رہے گا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Travis Head: ٹریوس ہیڈ کی طوفانی سنچری، آسٹریلیا کا زمبابوے کے خلاف ون ڈے میں اب تک کا سب سے بڑا اسکور

زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…

7 minutes ago

20th Rozgar Mela: روزگار میلے میں وزیر اعظم نریندر مودی 51 ہزار سے زائد نوجوانوں کو دیں گے تقرری نامے

روزگار میلے کے ذریعے جن شعبوں میں نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، ان…

39 minutes ago

Provident Fund Organisation: ای پی ایف او کی تنخواہ کی حد بڑھنے سے ملازمین پر کیا اثر پڑے گا،کیوں ہو رہی ہے تنقید؟

ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت…

42 minutes ago

PM Modi Shares Sanskrit Subhashit: وزیر اعظم نریندر مودی نے خصوصی سنسکرت سبھاشیت شیئر کیا، خود انحصاری اور خدمت کا دیا پیغام

وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…

1 hour ago

Supreme Court: گمنام شکایات پر سپریم کورٹ برہم، کہا- ایسی حرکتیں ہمیں پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتیں

چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…

1 hour ago