براتسلاوا: وزیراعظم نریندر مودی کو پیر کے روز سلوواکیہ کے دارالحکومت براتسلاوا میں باضابطہ استقبالیہ دیا گیا۔ سلوواکیہ کے 1993 میں آزاد ہونے کے بعد کسی بھارتی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وزیر اعظم کو آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس سے قبل اتوار کی شام ہوائی اڈے پر سلوواکیہ کے وزیر خارجہ یورائے بلانار نے ان کا استقبال کیا تھا۔ سلوواکی روایت کے مطابق انہیں روٹی اور نمک پیش کیا گیا، جو مہمان نوازی، خیرسگالی اور دوستی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
رابرٹ فیکو سے دو طرفہ ملاقات
وزیراعظم مودی نے بعد میں براتسلاوا کیسل میں سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے وفود کی سطح پر مذاکرات سے قبل ایک آرٹ نمائش کا بھی دورہ کیا۔ بھارتی وفد میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور خارجہ سکریٹری وکرم مسری سمیت اعلیٰ حکام شامل تھے۔
ثقافتی پروگرام اور بھارتی برادری سے ملاقات
استقبالیہ تقریب میں سلوواکیہ کے مائیاوا خطے کے بچوں کے لوک رقص گروپ نے روایتی لباس میں دلکش لوک رقص پیش کیا۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر اس ثقافتی مظاہرے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسی روایات کسی بھی قوم کی تاریخ اور تہذیب کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے براتسلاوا میں مقیم بھارتی برادری کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مودی نے کہا کہ ایسے جذبات دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔
تجارت، سرمایہ کاری اور صنعت پر توجہ
تین روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم مودی کی ملاقات سلوواکیہ کے صدر پیٹر پیلیگرینی سے بھی متوقع ہے۔ مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، اختراع (انوویشن)، آٹوموبائل مینوفیکچرنگ، ریلوے ترقی اور دیگر تزویراتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اپنے دورے سے قبل جاری بیان میں کہا تھا کہ وہ سلوواکیہ کے سیاسی اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کے منتظر ہیں اور یہ دورہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
دو طرفہ تعلقات کو نئی رفتار ملنے کی امید
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کو مزید آگے بڑھانے اور دوطرفہ تعلقات کو نئی توانائی فراہم کرنے کا موقع ہے۔ یہ دورہ گزشتہ برس دروپدی مرمو کے سلوواکیہ دورے اور رواں سال فروری میں صدر پیٹر پیلیگرینی کے بھارت کے دورے کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی، غیر…
گمبھیر نے ملاقات کو انتہائی خوشگوار قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر…
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی کارروائی، مرکزی ملزم سمیت 5…
ولادیمیر پوتن یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے رکن نہیں ہیں، تاہم وہ 2008 سے 2012 تک…
امت شاہ نے کہا کہ گجرات میں تعاون کی تحریک کو نئی سمت اور رفتار…
تیسرے کوارٹر میں انڈونیشیا نے ایک گول کیا، لیکن بھارت نے اس کے جواب میں…