وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کے 127ویں ایڈیشن میں ہندوستانی کافی کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی تعریف کی۔ انہوں نے خاص طور پر کرناٹک کے چکمنگلور، کورگ اور ہاسن سمیت جنوبی ہند کے دیگر کافی پیدا کرنے والے علاقوں کے کسانوں اور مزدوروں کی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے دنیا بھر میں ہندوستانی کافی کی پہچان بنائی ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کے مختلف حصوں میں تیار ہونے والی کافی نہ صرف خوشبودار ہے بلکہ اپنی منفرد ذائقے کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیزی سے جگہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے اوڈیشہ کے کوراپٹ، تمل ناڈو کے پلنی، شیورائے، نیلگیری اور انّاملائی اور کیرالہ کے وایناد، تراونکور اور مالابار جیسے علاقوں کا بھی ذکر کیا، جہاں کی کافی نے عالمی سطح پر اپنی شناخت مضبوط کی ہے۔
کرناٹک کے کسانوں اور تاجروں میں خوشی کی لہر
وزیر اعظم کی زبانی تعریف سن کر کرناٹک کے کافی پیدا کرنے والے، مزدور اور تاجر بے حد پرجوش ہیں۔ چکمنگلور، کورگ اور ہاسن کے کسانوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی جانب سے ان کے علاقے کا ذکر ہونا ان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ ایک مقامی کافی کاشتکار نے کہا کہ ”ہمیں ایسا لگا جیسے ہماری خوشبو اب پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ یہ ہماری محنت کا عالمی اعتراف ہے“۔ مقامی رہائشی کبڈی چیتن نے آئی اے این ایس سے گفتگو میں کہا کہ ”’من کی بات‘ میں وزیر اعظم نے چکمنگلور اور کورگ کی کافی کا ذکر کیا، یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ہماری کافی اب عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے، جو ہمارے علاقے کے لیے ایک بڑا سنگ میل ہے“۔ کافی فارم کے ای اسٹیٹ مینیجر راجندر نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے ذکر کیے جانے سے کسانوں اور مزدوروں میں نئی توانائی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “کرناٹک کی کہر آلود پہاڑیوں سے اٹھنے والی کافی کی خوشبو اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ یہ اعتراف ہمارے لیے نئی امید کی کرن ہے“۔
موسمی چیلنجز کا ذکر
کافی باغات کے مالک ڈاکٹر ایم ایم چنگپّا نے وزیر اعظم کی تعریف پر خوشی کا اظہار کیا، مگر ساتھ ہی انہوں نے موسمی چیلنجز پر تشویش بھی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ”غیر یقینی موسم کافی کی پیداوار کو متاثر کر رہا ہے۔ اکتوبر میں ہوئی شدید بارش سے کافی فارموں میں بڑے پیمانے پر گھاس اگ آئی ہے، جس کی وجہ سے اضافی مزدور لگانے پڑے۔ دسمبر میں مزید بارش کا امکان ہے، جس سے دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ جائیں گے“۔ کافی صنعت سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی یہ تعریف کسانوں کے حوصلے کو بلند کرے گی اور بھارتی کافی کو عالمی سطح پر مزید مقبول بنائے گی۔ اس پہچان سے نہ صرف کسانوں کو معاشی فائدہ ملے گا بلکہ برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی تنازع پر جیتن رام مانجھی نے کہا کہ…
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…