وزیرِاعظم نریندر مودی نے اتوار کی شام شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رسمی استقبالیہ میں شرکت کی، جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ استقبالیہ کے مقام پر پہنچنے پر وزیرِاعظم مودی نے صدر شی اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوآن سے مصافحہ کیا اور بعد ازاں عالمی رہنماؤں کے ساتھ گروپ فوٹو میں بھی شریک ہوئے۔ اس یادگار لمحے میں روسی صدر ولادیمیر پوتن بھی موجود تھے۔
ایس سی او سربراہی اجلاس کا باضابطہ آغاز یکم ستمبر کی صبح سے ہوگا، تاہم اس سے قبل وزیرِاعظم مودی نے کئی دوطرفہ ملاقاتیں کیں، جن میں چینی صدر شی جن پنگ سے گفتگو نمایاں رہی۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے بھارت اور چین کی معیشتوں کو عالمی تجارت کے استحکام میں اہم ستون قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کے فروغ پر بھی اتفاق ہوا، جن میں براہِ راست پروازوں کی بحالی، ویزا سہولت میں بہتری اور کیلاش مانسرور یاترا کی بحالی شامل ہے۔ تجارتی و اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے، سرمایہ کاری میں اضافے اور تجارتی خسارہ کم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے 2024 میں قازان میں ہونے والی آخری ملاقات کے بعد دوطرفہ تعلقات میں بہتری کو سراہا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت اور چین ترقیاتی شراکت دار ہیں، نہ کہ حریف اور اختلافات کو تنازعات میں نہیں بدلنے دیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر وزیرِاعظم مودی نے صدر شی جن پنگ کو بھارت میں 2026 میں ہونے والے برکس (BRICS) اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ صدر شی نے دعوت پر شکریہ ادا کیا اور بھارت کی برکس صدارت کے لیے مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ علاوہ ازیں وزیرِاعظم مودی نے میانمار کے قائم مقام صدر اور فوجی سربراہ، سینئر جنرل مِن آنگ ہیلانگ سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیرِاعظم نے ’پڑوسی پہلے‘، ’ایکٹ ایسٹ‘ اور ہند-بحرالکاہل پالیسیوں کے تحت میانمار سے تعلقات کو اہم قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں نے ترقیاتی شراکت داری، دفاعی تعاون، سرحدی تجارت اور سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…
شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…
میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…
برطانوی حکومت نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو 23 مارچ 1931 کو…