وزیرِاعظم نریندر مودی 8 ستمبر کو نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے ارکانِ پارلیمنٹ کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیں گے، جو نائب صدر کے انتخاب سے ایک روز قبل منعقد ہوگا۔ ایک سینئر این ڈی اے لیڈر کے مطابق یہ ملاقات اتحاد کے اندر ہم آہنگی اور ربط کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے۔ اے این آئی نے این ڈی اے لیڈر کے حوالے سے بتایا کہ ’’وزیرِاعظم مودی کی جانب سے یہ عشائیہ نائب صدراتی انتخاب سے ایک دن قبل رکھا گیا ہے۔ اس طرح کی ملاقاتیں ہمیشہ اتحاد میں یکجہتی اور باہمی رشتے مضبوط کرنے کا ذریعہ بنی ہیں۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کو تمام اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور یہ عشائیہ ووٹنگ کے دوران مکمل ہم آہنگی اور اتحاد کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔ واضح رہے کہ نائب صدراتی انتخاب 9 ستمبر کو متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت منعقد کیا جائے گا۔ کسی امیدوار کو منتخب ہونے کے لیے ڈالے گئے درست ووٹوں میں سے 50 فیصد سے زیادہ حاصل کرنا لازمی ہے۔ این ڈی اے نے اس انتخاب میں اپنا امیدوار سی پی رادھا کرشنن کو نامزد کیا ہے، جو اس وقت مہاراشٹر کے گورنر ہیں اور تمل ناڈو سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن نے سابق سپریم کورٹ جج جسٹس ریڈی کو، جو تلنگانہ سے ہیں، مشترکہ امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مقابلہ ’’جنوب بمقابلہ جنوب‘‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے، کیوں کہ دونوں امیدوار جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سی پی رادھا کرشنن، جو 31 جولائی 2024 سے مہاراشٹر کے گورنر کے عہدے پر فائز ہیں، اس سے قبل جھارکھنڈ، تلنگانہ کے گورنر اور پڈوچیری کے لیفٹیننٹ گورنر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ 1998 اور 1999 میں تمل ناڈو کے کوئمبٹور حلقے سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ 1974 میں بھارتیہ جن سنگھ (بی جے پی کا پیش رو) کی ریاستی کمیٹی کے رکن بنے تھے۔ اس سے قبل وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ ہو چکے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ندھی تیواری سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس بک پر…
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…
شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…
میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…