قومی

PM Modi Highlights Gujarat Green Initiatives In Mann Ki Baat : وزیر اعظم نریندر مودی نے ’من کی بات‘ میں گجرات کی ماحولیاتی کاوشوں کو سراہا، ریاست نے قدرتی وسائل کے تحفظ میں قائم کی نمایاں مثال

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز اپنے ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں گجرات کی ماحولیاتی کاوشوں کی بھرپور تعریف کی، خاص طور پر کَچھ کے علاقے میں جاری گرین منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے قدرتی وسائل کے تحفظ میں نمایاں مثال قائم کی ہے۔ مودی نے کہا کہ گجرات نے درختوں اور پودوں کے تحفظ و فروغ کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، وہ نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کے لیے ترغیب کا باعث ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ ماحولیات کے توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔

وزیر اعظم نے خاص طور پر کوری کریک علاقے میں تیزی سے آگے بڑھائے جا رہے مینگروو شجر کاری پروگراموں کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں ایک مینگروو لرننگ سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے جو مقامی سطح پر ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو گا۔ مودی نے کہا کہ “درخت اور پودے جہاں بھی ہوں، وہ تمام جانداروں کے لیے مفید ہیں اور ماحولیاتی توازن کے لیے ناگزیر ہیں”۔ انہوں نے عوامی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

گجرات اس وقت ملک کی ایک ایسی ریاست کے طور پر ابھرا ہے جو ماحولیاتی تحفظ میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ریاست نے ساحلی تحفظ، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں کئی جامع حکمتِ عملیاں اپنائی ہیں۔ مرکزی حکومت کی مشتی اسکیم کے تحت گجرات نے گزشتہ دو برسوں میں 19,020 ہیکٹر رقبے پر مینگرووز لگائے ہیں، جس سے ریاست کی کل مینگروو کوریج 1,175 مربع کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے جو ملک میں سُندر بن کے بعد دوسرا سب سے بڑا علاقہ ہے۔

قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں بھی گجرات سب سے آگے ہے۔ اکتوبر 2024 تک ریاست کی کل انسٹالڈ کیپیسٹی 51,869 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جس میں 19,421.89 میگاواٹ شمسی توانائی اور 13,514.68 میگاواٹ ہوائی توانائی شامل ہے۔ پلاسٹک آلودگی پر قابو پانے کے لیے ریاست نے بڑے پیمانے پر ساحلی صفائی مہمات بھی چلائیں۔ بین الاقوامی کوسٹل کلین اپ ڈے کے موقع پر 51,500 کلوگرام فضلہ دس ساحلی مقامات جیسے دوارکا، شِو راج پور اور دوماس سے اکٹھا کر کے سائنسی طریقے سے ضائع کیا گیا۔ یہ مہمات گجرات پولوشن کنٹرول بورڈ، مقامی بلدیات، محکمہ جنگلات، این جی اوز اور صنعتوں کے تعاون سے چلائی گئیں، جو عوامی شرکت اور ذمہ دار ماحولیاتی نظم و نسق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts