قومی

PM Modi Degree: وزیر اعظم مودی کی ڈگری تنازعہ: دہلی یونیورسٹی نے کہا- محض سنسنی پھیلانے کی کوشش، ہائی کورٹ نے دیا تین ہفتوں کا وقت

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی ڈگری سے متعلق معلومات کو عوامی کرنے کے مطالبے پر دہلی ہائی کورٹ میں جاری قانونی سماعت کے دوران دہلی یونیورسٹی نے اپنا واضح موقف پیش کیا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ اس معاملے کو بلاوجہ اچھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد محض سنسنی پھیلانا ہے، نہ کہ کسی حقیقی عوامی مفاد کا تحفظ۔ دہلی یونیورسٹی کی نمائندگی سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کی، جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم کی ڈگری سے متعلق تفصیلات کو منظر عام پر لانے کی مانگ کا کوئی مضبوط قانونی یا آئینی جواز موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آر ٹی آئی قانون کا استعمال اس انداز میں نہیں ہونا چاہیے کہ کسی فرد کی ذاتی زندگی کو سیاسی یا عوامی بحث کا موضوع بنا دیا جائے۔

یہ معاملہ دراصل ان عرضیوں سے جڑا ہے جن میں آر ٹی آئی کارکن نیرج، عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ اور ایڈووکیٹ محمد ارشاد شامل ہیں۔ ان افراد نے دہلی ہائی کورٹ کے 25 اگست 2025 کے ایک رکنی جج کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس میں مرکزی انفارمیشن کمیشن کے اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے تحت وزیر اعظم کی گریجویشن ڈگری سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ محض کسی شخص کا عوامی عہدے پر ہونا اس بات کی بنیاد نہیں بن سکتا کہ اس کی ہر ذاتی معلومات عوام کے سامنے رکھی جائے۔ عدالت نے کہا تھا کہ آر ٹی آئی قانون کا اصل مقصد سرکاری امور میں شفافیت لانا ہے، نہ کہ غیر ضروری تنازعات کو جنم دینا یا سنسنی خیز مواد فراہم کرنا۔

عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا تھا کہ اگر کسی عوامی عہدے کے لیے تعلیمی قابلیت لازمی شرط ہوتی، تو شاید صورتحال مختلف ہوتی، مگر موجودہ معاملے میں ایسی کوئی قانونی ضرورت ثابت نہیں ہوتی۔ اسی بنیاد پر عدالت نے مرکزی انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کو غلط قرار دیا تھا۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ اس کیس کو غیر ضروری اہمیت دی جا رہی ہے اور نوٹس جاری کرنا بھی سنسنی پھیلانے کے مترادف ہوگا۔ دوسری جانب اپیل کنندگان کی طرف سے کہا گیا کہ دہلی یونیورسٹی کی جانب سے اپیل دائر کرنے میں جو تاخیر ہوئی ہے، وہ معمولی ہے اور اسے معاف کیا جانا چاہیے۔

دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ، جس میں چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تجس کریا شامل ہیں، نے دہلی یونیورسٹی کو اپیل میں ہوئی تاخیر پر اپنا تفصیلی جواب داخل کرنے کے لیے تین ہفتوں کا اضافی وقت دے دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس دوران کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ 27 اپریل مقرر کی ہے۔ اس فیصلے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے، جہاں شفافیت، رازداری اور عوامی مفاد کے درمیان توازن پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

?Who really pays the Price : چنڈی گڑھ میں نجی کیب سروسز پر پابندی سے ڈرائیوروں کی روزی روٹی متاثر، مسافروں کے پاس محدود آپشنز، سڑکوں پر احتجاج

ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…

51 minutes ago

India vs Afghanistan T20: بھارت-افغانستان سیریز کے دوران 19 افراد گرفتار، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…

1 hour ago

Prime Minister Modi: دہلی میں ماحولیات پر بڑا بین الاقوامی اجلاس، وزیر نریندر اعظم مودی 19 ستمبر کو کریں گے افتتاح

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس،…

1 hour ago

Travis Head: ٹریوس ہیڈ کی طوفانی سنچری، آسٹریلیا کا زمبابوے کے خلاف ون ڈے میں اب تک کا سب سے بڑا اسکور

زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…

2 hours ago