نئی دہلی: سردیوں کا موسم اب رخصت ہونے کے قریب ہے اور شدید گرمی کی آمد کے واضح اشارے ملنے لگے ہیں۔ موسمی حالات میں تیزی سے ہو رہی تبدیلی نے ماہرین اور عام لوگوں دونوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ درجۂ حرارت میں مسلسل اضافے کے ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آیا اس سال گرمی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دے گی یا نہیں۔اسی دوران فضائی آلودگی نے بھی قومی دارالحکومت میں ایک بار پھر سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق منگل کی صبح دہلی میں فضائی معیار مزید خراب ہو گیا۔ ایئر کوالٹی انڈیکس بڑھ کر دو سو سڑسٹھ تک پہنچ گیا جو خراب زمرے میں آتا ہے۔ ایک دن قبل دہلی کا اے کیو آئی دو سو چھ ریکارڈ کیا گیا تھا جو اس وقت بھی خراب درجے میں ہی شامل تھا، تاہم تازہ اعداد و شمار نے صورتحال کے مزید بگڑنے کی تصدیق کر دی ہے۔دہلی کے کئی علاقوں میں اب بھی دھند اور آلودگی کی چادر چھائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں میں خاص طور پر سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آلودگی اور موسم کی تبدیلی صحت کے لیے دوہرا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
سی پی سی بی کے اعداد و شمار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں فضائی معیار انتہائی خراب ریکارڈ کیا گیا۔ آنند وہار میں اے کیو آئی تین سو سترہ، باوانا میں تین سو تینتیس، چاندنی چوک میں دو سو اسی، دوارکا سیکٹر آٹھ میں دو سو باون، آئی جی آئی ایئرپورٹ ٹرمینل تھری پر ایک سو بانوے، آئی ٹی او میں دو سو ستتر، نریلا میں تین سو چوالیس، پنجابی باغ میں دو سو ستتر، آر کے پورم میں دو سو چھیانوے، وزیرپور میں تین سو انتالیس اور روہنی میں تین سو پینتیس ریکارڈ کیا گیا۔ماہرین موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں گرمی میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے ساتھ آلودگی کا اثر بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں اور صحت کا خاص خیال رکھیں۔
اتر پردیش میں اس وقت موسم تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کہر کا اثر اب آخری مرحلے میں ہے۔ مغربی یوپی میں درجۂ حرارت معمول سے اوپر جا چکا ہے جبکہ مشرقی یوپی کے گورکھپور، پیلی بھیت، دیوریا اور وارانسی جیسے اضلاع میں صبح کے وقت کہر کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ تاہم یہ کہر صرف صبح تک محدود رہنے کی امید ہے اور دن چڑھتے ہی دھوپ نکل آئے گی۔ لکھنؤ میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت ستائیس اور کم سے کم گیارہ ڈگری کے آس پاس رہ سکتا ہے۔ اس کے باوجود فضائی معیار بدستور تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
ہریانہ میں موسم فی الحال مستحکم ہے۔ دن کا درجۂ حرارت چوبیس سے چھبیس ڈگری کے درمیان ہے جبکہ راتیں ابھی ٹھنڈی ہیں۔ راجستھان میں موسم خشک ہے، دن خوشگوار ہو رہے ہیں مگر رات اور صبح کی ٹھنڈ برقرار ہے۔ بہار کے شمالی اور سیمانچل علاقوں میں گھنا کہر اب بھی بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ سپول، مظفرپور، دربھنگہ اور سیتامڑھی میں صبح کے وقت حد نگاہ کافی کم ہو جاتی ہے۔ جھارکھنڈ میں دن کے وقت ہلکی گرمی اور صبح شام ٹھنڈی ہوائیں محسوس کی جا رہی ہیں۔ ہماچل پردیش کے بلند علاقوں میں موسم اب بھی سخت ہے۔ تبو اور کوکومسیری جیسے علاقوں میں درجۂ حرارت منفی میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گیارہ سے سولہ فروری کے درمیان بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…