قومی

PM Modi congratulates Carney on election victory: پی ایم مودی نے انتخاب جیتنے پر کارنی کو دی مبارکباد، کہا- مشترکہ جمہوری اقدار کے پابند ہیں ہندوستان اور کینیڈا

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کو عام انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی۔ کارنی کی قیادت میں لبرل پارٹی چوتھی بار اقتدار میں واپسی کرنے میں کامیاب رہی۔

پی ایم مودی نے مارک کارنی کو ایکس پر ٹیگ کرتے ہوئے لکھا، ’’ہندوستان اور کینیڈا مشترکہ جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی کے لیے مضبوط وابستگی، اور عوام کے درمیان متحرک تعلقات کے پابند ہیں۔ میں ہماری شراکت کو مضبوط کرنے اور ہمارے لوگوں کے لیے زیادہ مواقع کے دروازے کھولنے کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔‘‘

کارنی کے پیش رو جسٹن ٹروڈو کے دور میں اوٹاوا کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات انتہائی کشیدہ رہے۔ وہ ہندوستان کے خلاف بارہا ’بیہودہ بیانات‘ دے چکے ہیں اور خالصتانیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر چکے ہیں۔

ممتاز ماہر اقتصادیات اور بینک آف کینیڈا کے سابق گورنر کارنی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ہندوستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو ’دوبارہ تعمیر‘ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

کارنی نے کیلگری میں ایک گفتگو کے دوران کہا، ’’کینیڈا ہم خیال ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ بنانے کے مواقع موجود ہیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے انہوں نے ایک بار پھر اشارہ دیا کہ کینیڈا ہندوستان کے ساتھ دوبارہ تعلقات قائم کرنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کینیڈا-ہندوستان تعلقات کئی سطحوں پر ایک ناقابل یقین حد تک اہم رشتہ ہے۔ اس وقت، جب عالمی معیشت ہی نہیں بلکہ عالمی نظام بھی ہل گیا ہے، اس کی نوعیت بدل رہی ہے، کینیڈا جیسے ممالک، ہندوستان جیسے ممالک، خاص طور پر کھلی، مشترکہ معیشت، مشترکہ خیالات، مشترکہ تعلقات کی تعمیر میں بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘

وزیراعظم مارک کارنی کی قیادت میں لبرل پارٹی کی جیت کئی لحاظ سے حیران کن ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کینیڈا کے خلاف جارحانہ موقف کو پارٹی کی جیت میں بڑا فیکٹر مانا جا رہا ہے۔

سال کی شروعات میں، لبرل پارٹی ذلت آمیز شکست کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن ٹرمپ نے کینیڈا کے خلاف ٹیرف وار چھیڑ کر اور ملک کو ریاستہائے متحدہ میں ضم کرنے کی دھمکی دے کر سارا کھیل پلٹ دیا۔ ٹرمپ کے خلاف بغاوت اور قوم پرستی کے جذبات پیدا ہونے کے ساتھ ہی پارٹی کی حمایت میں اضافہ ہوا۔

بڑی تعداد میں کناڈائی کے لوگوں نے لبرل پارٹی کی حمایت کی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ پارٹی پیئر پوئیلیور کی زیر قیادت کنزرویٹو پارٹی سے بہتر ٹرمپ کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کا نظریہ کئی لحاظ سے امریکی صدر سے ملتا جلتا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

8 hours ago

National Film Awards Ceremony: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ایکتا نگر پہنچیں، منگل کو 72ویں نیشنل فلم ایوارڈز تقریب میں ہوں گی شریک

صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…

9 hours ago

Hanuman Ansh: رام للا کے درشن کے بعد جذباتی ہوئیں ’ہنومان انش‘ کی پروڈیوسر انوپریا ناگر، میڈیا پارٹنر ’بھارت ایکسپریس‘ کا ادا کیا شکریہ

فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…

9 hours ago

Amaze Award 2026: بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے کو امیز ایوارڈ 2026 سے نوازا جائے گا، کوی سمیلن اور مشاعرے کا ہوگا انعقاد

’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…

9 hours ago

Sonia Gandhi Electoral Roll Matter: سونیا گاندھی کے ووٹر لسٹ معاملے میں ریویژن پٹیشن منظور، 29 ستمبر کو ہوگی دوبارہ سماعت

راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…

9 hours ago